ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

30 لاکھ روپے کے مبینہ باؤنس چیک کا مقدمہ؛ سی سی پی او لاہور ذاتی حیثیت میں طلب

30 لاکھ روپے کے مبینہ باؤنس چیک کا مقدمہ؛ سی سی پی او لاہور ذاتی حیثیت میں طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے 30 لاکھ روپے کے مبینہ باؤنس چیک کے مقدمے میں پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم محمد طارق جاوید کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ دوران سماعت تھانہ کاہنہ کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد حنیف عدالت میں پیش ہوئے اور کیس سے متعلق رپورٹ پیش کی۔عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ اور ایف آئی آر کا جائزہ لیا تو جسٹس محمد طارق ندیم نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر میں تو چیک کو بطور گارنٹی چیک قرار دیا گیا ہے۔ اس پر تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گارنٹی چیک نہیں ہے۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا پولیس کو ملزم کی گرفتاری درکار ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پولیس تفتیش کے مطابق ملزم قصوروار ہے اور اس کی گرفتاری ضروری ہے۔جسٹس محمد طارق ندیم نے سوال کیا کہ موجودہ ریکارڈ کی روشنی میں ملزم کی گرفتاری کس بنیاد پر بنتی ہے؟ تاہم تفتیشی افسر عدالت کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا۔

عدالت نے پولیس تفتیش میں پائے جانے والے ابہام اور غیر تسلی بخش وضاحت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاملے کی نوعیت اور تفتیشی عمل پر مزید وضاحت درکار ہے۔ عدالت نے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو حکم دیا کہ وہ 23 جون کو  ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہو کر مقدمے کی تفتیش اور پولیس کے مؤقف سے متعلق وضاحت پیش کریں۔