ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کیئر اسٹارمر مدت پوری نہ کرنیوالے چھٹے برطانوی وزیر اعظم،پریس کانفرنس میں آنکھیں نم

 کیئر اسٹارمر مدت پوری نہ کرنیوالے چھٹے برطانوی وزیر اعظم،پریس کانفرنس میں آنکھیں نم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں واقع سسرکاری رہائشگاہ سے اپنی اہلیہ کیساتھ باہر آ  کر عوام کی تالیوں کے درمیان وزیر اعظم کے عہدے اور لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔انہوں نے پریس کانفرنس کی ، جس کے آخر میں جب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کا ذکر کر رہے تھے، تو انتہائی جذباتی بھی ہو گئے اور انکی آنکھیں نم نظر آئیں۔ وہ گزشتہ 10 برسوں میں مدت پوری ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑنے والے چھٹے برطانوی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’میں اب اپنی زندگی کے سب سے اہم کام پر زیادہ وقت صرف کروں گا۔ یعنی اپنی شاندار اہلیہ وِک کے لیے بہترین شوہر بننے کی کوشش کروں گا، اور اپنے خوبصورت بچوں کے لیے بہترین والد بنوں گا، جو ہمیشہ میری خوشی اور فخر کا باعث رہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد ہونے والے اس بڑے استعفیٰ کے باعث کیئر اسٹارمر گزشتہ 10 برسوں میں ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لیز ٹرس اور رشی سُنک کے بعد مدت پوری ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑنے والے چھٹے برطانوی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ اسٹارمر نے عہدہ چھوڑتے وقت کہا کہ وہ ملک کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے مقصد سے ہی سیاست میں آئے تھے۔ 2 سال قبل جب وہ اس تاریخی عمارت 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں آئے تھے، تو وہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ باعث فخر لمحہ تھا۔ پیر کو جب انہوں نے اپنی رخصتی کا اعلان کیا تو عوام نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
 قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیئر اسٹارمر سے قبل گزشتہ 10 سالوں میں اپنی مدت کار مکمل کرنے سے پہلے ہی وزیر اعظم عہدہ سے استعفیٰ دینے والوں میں رشی سُنک (24-2022) نے جولائی 2024 میں مقررہ وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ شکست کی مکمل اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سُنک نے اگلے ہی دن 5 جولائی 2024 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔برطانیہ کی تاریخ میں لیز ٹرس کی مدت کار سب سے مختصر 45 دن رہی۔ستمبر 2022 میں وزیر اعظم بنے اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو گیا، جس کے باعث  انہوں نے 20 اکتوبر 2022 کو استعفیٰ دے دیا۔
سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا دور اقتدار تنازعات اور اسکینڈلز سے گھرا رہا۔ان پر ’پارٹی گیٹ‘ کا سنگین الزام لگا تھا۔ اس کے ساتھ  اعتماد کھو دینے کے بعد 7 جولائی 2022 کو جانسن نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفا دے دیا۔ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ کے بعد تھریسا مے نے برطانیہ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ بریگزٹ ایگریمنٹ پارلیمنٹ میں 3 مرتبہ بھاری فرق سے مسترد ہو ا۔ انہیں اپنی ہی پارٹی میں گہری تقسیم، بار بار شکست اور قیادت کو درپیش کھلے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں تھریسا مے کو بھی وقت سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ اس سلسلے کا آغاز 2016 میں ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ سے ہوا تھا۔ کیمرون نے برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اس سے الگ ہونے کے بارے میں ایک تاریخی ریفرنڈم کرایا تھا۔ وہ خود یورپی یونین میں برقرار رہنے کے بڑے حامی تھے، لیکن 23 جون 2016 کو عوام نے 52 فیصد ووٹ دے کر علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے دیا، جس کے بعد اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے 24 جون کو استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور 13 جولائی 2016 کو باضابطہ طور پر وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔