سٹی42: صدر ٹرمپ نے صرف نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کا حکم دیا ، صرف نیوکلئیر تنصیبات پر ہی حملہ کیا، ایران کا کوئی شہری اور فوجی امریکہ کے حملوں میں نہیں مرا۔ حملے مکمل کامیاب ہیں۔ بی ٹو بمباروں کا یہ سب سے بڑا مشن تھا، طیارے براہ راست امریکہ سے گئے، 18 گھنتے ہوا میں رہے، آبدوزوں نے بھی کام کیا۔ پلاننگ کئی ماہ پہلے ہوئی۔
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی حیران کر دینے والی تفصیلات جاری کردیں۔
امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے پریس کانفرنس میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
سیکرٹری دفاع ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا، امریکہ بار بار کہتا رہا ہے ایران کو جوہری ہتھیارحاصل کرنے نہیں دیں گے،صدر ٹرمپ نے کئی بار کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ فردو جوہری پلانٹ پر حملے میں شامل ہر امریکی اہلکار نے بےحدشاندار کام کیا، ایران کے جوہری عزائم خاک میں مل چکے ہیں۔
ایران نے حملہ کیا تو زیادہ سخت جواب دیں گے
پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اب ٹیبل پر آئے، ایران نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے جو کل رات کے حملوں سے زیادہ سخت ہوگا۔
ہیگستھ نے زور دے کر کہا کہ آپریشن مڈ نائت ہیمر میں کسی ایرانی فوجی یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
کئی مہینے کی تیاری
حملے کی آپریشنل تفصیلات بیان کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران پر حملے کو ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا، ایران پرامریکی حملہ انتہائی خفیہ مشن تھا جس سے صرف چند لوگ واقف تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس مشن کے لئے کئی مہینے تیاری کی گئی۔
بی ٹو طیاروں کا سب سے بڑا مشن
ہیگستھ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے میں سات بی 2 طیاروں اور مجموعی طور پر 125 سے زیادہ فوجی طیاروں نےحصہ لیا، یہ امریکی تاریخ میں بی 2 بمبارطیاروں کا سب سے بڑا حملہ تھا۔
جی بی یو 57 بم کا پہلا جنگی استعمال
جنرل ڈین کین نے آپریشن کی ٹیکنیکل ڈیٹیل میڈیا سے شئیر کی اور بتایا کہ مجموعی طور پر 75 گائیڈڈ بموں کا استعمال ہوا جن میں ٹوٹل 14 جی بی یو 57 بم بھی شامل تھے جو کہ اس بم کا پہلا آپریشنل استعمال تھا۔
بی ٹو براہ راست امریکہ سے ہی اڑے، 18 گھنٹے ہوا میں رہے
جنرل ڈین نے کہاکہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب امریکہ سے سٹیلتھ بی 2 بمبار طیاروں نے امریکہ سے اڑان بھری جن میں کچھ طیارے مغرب کی جانب گئے جب کچھ رازداری کے ساتھ مشرق کی جانب گئے۔
اپنی 18 گھنٹے طویل پرواز کے دوران ان طیاروں نے فضا میں ہی کئی بار ری فیولنگ کی۔
آبدوزوں کا کردار؛ ٹاما ہاک میزائل آبدوزوں سے آئے
جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا کہ کل رات صرف بی تو بمباروں نے ہی کام نہیں کیا، طیاروں کے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے کچھ پہلے امریکی آبدوز نے اصفہان میں کئی تنصیبات ٹاماہاک کروز میزائل داغے۔

حملے صبح 3:40 پر شروع ہوئے، پچیس منٹ میں مکمل
ایرانی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 10 منٹ (پاکستان صبح 3:40) پر پہلے بی 2 طیارے نے فردو جوہری پلانٹ پر 2 جی بی یو 57 بم گرائے جس کے بعد دیگر بمبار طیاروں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ فردو، اصفہان اور نطنز میں اہداف کو 25 منٹ کے دورانیے میں نشانہ بنایا گیا۔
جنرل ڈین کین نے کہاکہ ابتدائی اندازوں کےمطابق ایران کی تینوں جوہری تنصیبات میں تباہی ہوئی اور شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی فضائی حدود میں امریکی جنگی طیاروں پر ایران کی طرف سے کوئی حملہ نہیں ہوا، زمین سےفضا میں مارکرنے والا ایرانی دفاعی نظام ہمیں نہیں دیکھ سکا، امریکی فوج اب بھی ہائی الرٹ ہے، امریکہ نےایران میں جو کچھ کیا دنیا کی کوئی دوسری فوج یہ نہیں کر سکتی تھی۔
