ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مقامی آبادی کا احتجاج، اسرائیلی مسافر یونان کی بندرگاہ پر نہ اتر سکے

Israeli cruise passengers stuck aboard, Greece, Israeli Foreign Minister Saar , City42
کیپشن: منگل 22 جولائی 2025 کو یونانی جزیرے سائروس پر سیکڑوں اسرائیلیوں کو کروز جہاز سے اترنے سے روکنے والا ایک بڑا اسرائیل مخالف، فلسطینی حامی احتجاج (کاپی رائٹ قانون کی شق 27a کے مطابق استعمال ہونے والے سوشل میڈیا سے اسکرین گریب)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اسرائیل مخالف  گروپ کے احتجاج کے سبب اسرائیلی شہریوں سے لدا ہوا کروز شپ یونان میں بندرگاہ پر ڈاکنگ نہیں کر سکا۔ جہاز اب قبرص کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے عبرانی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کو رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل مخالف مظاہرے کے بعد کروز شَپ اسرائیلی مسافروں کو لے کر قبرص کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اس کروز شِپ کو  یونان میں ڈاکنگ کرنے سے روک دیا گیا  تھا–

آج منگل کے روز یہ اطلاعات آئیں کہ سینکڑوں اسرائیلیوں کو لے جانے والا ایک کروز شپ مبینہ طور پر اسرائیل مخالف مظاہرے کی وجہ سے یونان میں لنگر انداز نہیں سکا اور اسے قبرص کی طرف جانا پڑا۔

عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز پر سوار مسافروں کا حوالہ دیتے ہوئے کروز کمپنی مانو میری ٹائم نے اسرائیل مخالف بڑے مظاہروں کی وجہ سے یونانی جزیرے سائروس پر  ڈاکِنگ کی کوشش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور  اب وہ قبرص کی بندرگاہ لیماسول کی طرف سفر کرے گا۔

کروز کمپنی کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ 

اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون ساعار نے کہا کہ انہوں نے اپنے یونانی ہم منصب سے اس معاملے پر بات کی اور جہاز کی ڈاکنگ میں رکاوٹ ہٹانے کے لئے مداخلت کی درخواست کی۔

بعد میں آنے والے خبروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کے وزیر خارجہ کی مداخلت کی درخواست پر یونان کی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔

اس سے پہلے کیا ہوا 

اس سے پہلے آج منگل کی دوپہر یہ اطلاعات آئی تھیں کہ اسرائیلی شہری کروز مسافر جہاز میں پھنس گئے اور اسرائیل کے مخالف مظاہرین نے یونانی گودی پر جہاز کے لنگر ڈالنے کو روک دیا۔



عبرانی میڈیا کی متعدد رپورٹوں کے مطابق، اسرائیلی کروز کے سینکڑوں مسافر یونانی جزیرے سائروس پر اپنے جہاز پر پھنس گئے ، جس کی وجہیہ ہے کہ بندرگاہ کی گودیوں پر اسرائیل مخالف اور فلسطینی حامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

"کراؤن آئرس" کروز شپ پر سوار مسافروں کو جو کہ اسرائیلی جہاز رانی کی بڑی کمپنی مانو میری ٹائم کے ذریعے چلایا جاتاہے، کو ایجیئن جزیرے پر چھ گھنٹے کے لیے اترنا تھا لیکن احتجاج کے باعث انھیں جہاز سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

ایک اسرائیلی مسافر نے  اسرائیل کے "کان" براڈکاسٹر کو بتایا کہ جب جہاز پر موجود اسرائیلیوں میں سے ایک نے احتجاج دیکھا تو "ہم نے اسرائیلی جھنڈے اٹھائے اور ہم میں سے کچھ نے گانا شروع کر دیا۔"

"جہاز کے اندر، ہم خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، لیکن بچے تھوڑا دباؤ کا شکار ہیں،" نامعلوم مسافر نے بتایا۔

چینل 12، جس کا کہنا ہے کہ اس کروز شپ میں 1,600 اسرائیلی سوار ہیں، رپورٹ کیا  کہ اس احتجاج کا اہتمام یونانی  جزیرے سائروس کے رہائشیوں کے ایک گروپ نے کیا تھا، جس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ وہ "غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنا ہاتھ بلند کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "یہ ناقابل قبول ہے کہ اسرائیل سے آنے والے سیاحوں کا یہاں خیرمقدم کیا جائے جب کہ فلسطینی غزہ کی پٹی میں مشکلات کا شکار ہیں۔"

رپورٹس کے جواب میں، مانو شپنگ کمپنی نے بتایا کہ وہ "مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور احتجاج کے نتیجے میں، مسافروں کو اتارنے میں تھوڑی تاخیر ہوئی ہے۔"

ابتدا میں کمپنینے مسافروں کو بتایا تھا  کہ "پورٹ میں گزارے گئے وقت کو اس کے مطابق بڑھایا جائے گا اور وہاں کی سیر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔" "جہاز پر کوئی مسلح پولیس نہیں ہے، روایتی طور پر صرف اسرائیلی سیکورٹی اہلکار ہیں۔ اندازہ ہے کہ مظاہرہ آدھے گھنٹے میں منتشر ہو جائے گا۔" لیکن بعد میں ایسا نہیں ہوا اور جہاز کو سائروس مین لنگر ڈالنے کا شیڈول کیا ہوا پلان منسوخ کر کے شپ کو قبرص لے جانا پڑا۔