سٹی42: ہم اپنے بچپن سے سنتے آ رہے تھے کہ فیوچر میں اڑنے والی کاریں چلا کریں گی، اب ہم نے اپنی آنکھوں سے اڑنے والی کار کو سڑک پر دوڑنے والی کار کو "اوپر سے اوورٹیک" اور "اوپر سے کراس" کرتے دیکھ لیا۔ اڑنے والی کار کی اڑتے ہوئے دوسری کاروں کے اوپر سے گزرنے کی ویڈیو کلپ اس وقت دنیا مین وائرل ہو رہی ہے۔
کاروں کو اڑانے کا پرانا خواب سچ کر دکھانے میں اب تک کئی کمپنیاں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔ حالیہ تجربہ کچھ زیادہ منفرد ہے کہ اڑنے والی کار کہیں سے بھی اڑان بھر سکتی ہے اور کہیں بھی دوبارہ سڑک پر لینڈ ہو سکتی ہے۔
کیلیفورنیا، امریکہ کی ایلف ایروناٹکس کمپنی نے ایک کامیاب تجربے کے بعد پہلی اُڑنے والی گاڑی کی حیران کن ویڈیو بھی جاری کردی ہے۔
امریکی کار ساز کمپنی (U.S. آٹومیکر) ایلف ایروناٹکس نے اُڑنے والی گاڑی حقیقت میں بنا کر سب کو حیران کردیا ہے، ابھی تک صرف یہ فلموں میں ہی دیکھا جاتا تھا کہ اُڑنے والی گاڑی میں لوگ سوار ہیں، جیسے کہ جادو پر بنائی گئی ہالی ووڈ ہیری پورٹر سیریز میں بھی اُڑنے والی گاڑی دکھائی گئی تھی، تب سے ہی لوگوں میں یہ دلچسپی پیدا ہوگئی تھی کہ یہ گاڑی کیا حقیقت میں بھی بن سکے گی؟ کئی عرصے تک تجربے جاری رہے اور باتیں بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ گردش رہی کہ اڑنے والی گاڑی جلد ہی بنا لی جائے گی، لیکن اس امریکی کمپنی نے یہ کامیاب تجربہ کرکے اس خیال کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
اسے ’’گراؤنڈ بریکنگ فلائی رن‘‘ کا نام دیا گیا ہے، اس کا رنگ سیاہ ہے جو کہ اسے بے حد پرکشش بناتا ہے، یہ گاڑی 100 فیصد الیکٹرک ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس کامیاب تجربے کو ویڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چھا چکی ہے اور اس پر بے حد تبصرے کیے جارہے ہیں ، کیونکہ سب کے لیے یہ ناممکن سا ہی خیال ہے جو کہ اب حقیقت بن چکا ہے، تو عوام کی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
کیلیفورنیا کی سڑک پر بنائی گئی ویڈیو میں یہ گاڑی بالکل ہالی ووڈ فلم "بیک ٹو دی فیوچر II" کی طرح سڑک پر چلتے ہوئے اچانک ہوا میں اڑنا شروع ہوگئی اور آگے کھڑی گاڑی کے اوپر سے گزر گئی۔
کمپنی کے سی ای او جم دکھوونی نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا کہ یہ تجربہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم انوینشن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس گاڑی کو رائٹ برادرز کی 1903 کی انقلابی کٹی ہاک ویڈیو سے متاثر ہوکر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ کار چلانے اور عمودی طور پر ٹیک آف کرنے کی عوامی سطح پر جاری ہونے والی پہلی ویڈیو ہے،"۔
ایلف ایروناٹکس نے اب تک بہت سے پہلوؤں کے متعلق کار کی پرفارمنس نہیں دکھائی جن میں فضا مین پرواز کے دوران سپیڈ کے ساتھ مکمل کنٹرول، جیسا کہ سڑک پر دستیاب ہوتا ہے اور دیگر سیفٹی ایشوز اہم ہیں۔
اس گاڑی کو ڈسٹری بیوٹڈ الیکٹرک پروپلشن نامی نظام کے ذریعے پرواز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس میں پروپیلر بلیڈ کو ڈھانپنے والی ایک میش کی تہہ ہوتی ہے تاکہ گاڑی کے ذریعے ہوا کو بہنے دیا جا سکے۔
کمپنی نے اپنے لوگوں کو بتایا کہ اس گاڑی پر پہلا تجربہ ایک خالی اور بند سڑک پر کیا گیا، تاکہ کسی کو کوئی خطرہ نہ ہو، اور جب یہ کامیاب تجربہ حقیقت بن گیا تو اسے ٹریفک میں لاکر بھی ایک ویڈیو بنائی گئی جس میں دوسری گاڑیاں بھی سڑک پر موجود ہیں اور ٹریفک جام ہوچکی ہے، سڑک پر کھڑی سیاہ رنگت والی یہ گاڑی اچانک ہوا میں اڑنے لگتی ہے اور گاڑیوں پر سے گزر کر آگے چلی جاتی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس گاڑی میں دو سیٹیں لگائی گئی ہیں ، اس کی فلائنگ رینج 110 میل اور ڈرائیونگ رینج 200 میل ہو گی، آٹو پائلٹنگ فلائٹ کی صلاحیتیں بھی اس میں موجود ہوں گی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس گاڑی کے ہر پہیے میں چار چھوٹے انجن ہیں جو معجزاتی چابک کو عام الیکٹرک کار کی طرح حرکت کرنے دیں گے، جس کی وجہ سے یہ گاڑی سڑکوں پر عام کار کی طرح چلائی جا سکتی ہے۔
