ذاتی دشمنی پر قتل کے مقدمے میں دہشتگردی ایکٹ نہیں لگے گا

ذاتی دشمنی پر قتل کے مقدمے میں دہشتگردی ایکٹ نہیں لگے گا

(شاہین عتیق) انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتوں میں پولیس اب وہی کیس بھجوا سکے گی جس میں کسی کا مقصد صرف دہشتگردی یا خوف وہراس پھیلانا ہوگا، ذاتی دشمنی پر قتل کے  مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگیں گی۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے  انسداد دہشت گردی قانون کی تشریح کر دی، جس پر دہشت گردی کی عدالتوں سے مقدمات سیشن کورٹ منتقل ہونا شروع ہوگئے ہیں، پولیس اب فائرنگ کیس جس میں ذاتی دشمنی کا عنصر ہو، اس دوران چاہے کتنے ہی افراد جاں بحق کیوں نہ ہوئے ہوں مگر ایسے کیس میں دہشتگردی کی دفعات نہیں لگیں گی، صرف بھتہ وصول کرنا، اغوا برائے تاوان، تیزاب پھینکنا، آگ لگانا اور ہینڈ گرنیڈ برآمد ہونا جیسے کیس ہی عدالت میں چلیں گے، لیکن اس میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت سزا نہیں ہوگی۔

فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پولیس ہر ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ شامل کر دیتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے پر وکلاء کی طرف سے وہ کیس جن میں دہشت گردی کا عنصر نہیں تھا، انہیں سیشن کورٹ منتقل کرنے کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔