لاہورہائیکورٹ میں 17 ججز کی آسامیاں خالی

لاہورہائیکورٹ میں 17 ججز کی آسامیاں خالی

ملک اشرف: لاہورہائیکورٹ میں عرصہ سے 17 ججز کی آسامیاں خالی، تاریخ پر تاریخ ، لاہور ہائیکورٹ میں بروقت انصاف کی فراہمی کا عمل تاخیر کا شکار، زیر التواء مقدمات کی تعداد ایک لاکھ پندرہ ہزار سے تجاوز کر گئی ججز کی کمی انصاف ک راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔

لاہور ہائیکورٹ میں خالی اسامیوں کی تعداد سترہ تک پہنچ گئی، آیندہ ماہ مزید اضافہ ہوگا، لاہور ہائیکورٹ میں گزشتہ سوا سال سے کوئی نیا جج تعینات نہیں ہوا گزشتہ سال تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور یائیکورٹ میں کسی نئے جج کی تعیناتی عمل میں نہیں آسکی۔

 چیف جسٹس مامون رشید شیخ آیندہ ماہ اور جسٹس مجاہد مستقیم بھی اپریل میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے، ذرائع کے مطابق ججز کی کمی کی وجہ سے ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی، ہائیکورٹ نئے بلدیاتی نظام اور بلدیاتی اداروں کی تحلیل کے خلاف درخواست پر سماعت التواء کا شکار ہے۔

  ضلعی حکومتوں کی تحلیل اور نئے ترمیمیی ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ نہ ہوسکا، قرض کے نادھندگان کی جائیدادوں کی نیلامی کے طریقہ کار کے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہ ہوسکا، عام سائلین کے کیسز بھی التواء کا شکار ہیں جبکہ ماتحت عدالتوں میں بھی ساڑھے چھ سو سے زائد ججز کی کمی، زیر التوا کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔