ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں سزا یافتہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق اراکین اسمبلی کی نااہلی کے خلاف کیس ، عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے متعلق مزید دلائل طلب کرلیے۔
جسٹس خالد اسحاق نے سابق ایم پی اے احمد خان بچر اور سابق ایم این اے محمد احمد چٹھہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل شہزاد شوکت ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ان کی اپیلیں فکس نہیں ہو رہیں، اگر ہائیکورٹ آفس سماعت کے لئے مقرر کردے تو وہ وہاں پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ "درخواست گزار اگر سرنڈر کردیں تو ان کے تمام حقوق برقرار رہیں گے"۔ دیگر سابق اراکین پشاور ہائیکورٹ میں بھی حفاظتی ضمانت کے بعد پیش ہوئے تھے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں حفاظتی ضمانت دے دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔ تاہم جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ "میرے سامنے اس وقت حفاظتی ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے"۔
جسٹس خالد اسحاق نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں آپ کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا، اس وقت یہ حکم نہیں دے رہا کہ وہ پیش ہو جائیں"عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر ضمنی الیکشن بھی ہو جائیں تو یہ درخواستیں غیر مؤثر نہیں ہوں گی۔ وکیل شہزاد شوکت نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ کوشش کریں گے کہ ان کے مؤکل عدالت میں پیش ہو جائیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصراحمد مرزا نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات اٹھائے ،،۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل عثمان خان جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی جی لاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
تاہم عدالت نے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کو آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دیا۔