ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ہے اور آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے، کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہ جانے کی اجازت نہیں، ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا ایران معاشی بدحالی کا شکار ہے، آبنائےہرمزپرناکہ بندی سے ایران کو تقریباً 500 ملین ڈالر کا یومیہ نقصان ہورہاہے، ایران چاہتا ہے آبنائے ہرمز کھلے تاکہ وہ 5 سو ملین ڈالر روزانہ کما سکے، یہی وہ رقم ہے جو آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایرانی کھو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے آبنائےہرمزکی مکمل ناکہ بندی کی ہوئی ہے لیکن ایران آبنائے ہرمز کی بندش نہیں چاہتا، ایرانی صرف شرمندگی سے بچنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ ہرمز بند رہے۔
امریکی صدر بولے 4روز پہلے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا سر ایران ہرمز کھولنا چاہتا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا ہم نے ہرمز کھولی تو پھر ایران سے امریکا کبھی ڈیل نہیں کرسکےگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے، ایران کی فضائیہ ختم ہو چکی ، اینٹی ائیر کرافٹ اور ریڈار کا صفایا کر دیا گیا ہے، ایران کی نیوکلیئر لیبز اور اسٹوریج ایریاز کو بی 2 بمباروں نے ختم کر دیا تھا، ان کے رہنما بھی مر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف حملہ فی الحال مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ ایرانی قیادت اور نمائندے متفقہ تجویز پیش کر سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے،
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں۔