ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

" احساس پروگرام نے سفید پوش افراد کو بھکاری بنا دیا"

Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) ہائیکورٹ نے وکلاء کے لئےحکومتی فنڈز مختص نہ کرنے کے خلاف  درخواست پر پنجاب حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتوئے پرنسپل۔ سیکرٹری ٹو وزیر اعلی کو کل طلب کرلیا ۔وفاقی اور پنجاب حکومت کی وزارت قانون سے بھی جواب طلبی ، چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس  دیئے کہ احساس پروگرام سے سفید پوش افراد کو بھکاری بنا دیا گیا۔
چیف جسٹس محمد قاسم خان نے لاہور ہائیکورٹ بار کی وکلاء کو حکومتی فنڈز کی عدم فراہمی کے خلاف کی کی سماعت کی ۔صدر لاہورہائیکورٹ طاہر نصراللہ وڑائچ سمیت دیگر بار عہدیدار پیش ہوئے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ملک عبدالعزیز اعوان پیش ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کورونا سے متاثرہ دیگراداروں اور افراد کے لئے مالی امدادی پیکج دئیے جاریے ہیں، وکلاء کے لئے فنڈز مختص کیوں نہیں کئے ؟

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ملک عبدالعزیز اعوان نے کہا کی وزیر اعلی کو سمری بھیجی ہوئی ہے تاہم ابھی تک اس کی منظوری نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے حکومتی جواب پر عدم اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ابھی تک وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے وکلاء کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔حکومت وکلا کی مدد کرکے کوئی احسان نہیں کرتی، یہاں جب تک آٹے کے تھیلے کے ساتھ تصویر نہ بنے تو غریب آدمی کی مدد نہیں ہوتی، احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو لائنوں میں لگا تصاویر بنواتی ہیں، کیا قوموں کے مشکل حالات میں اسطرح ریاست مدد کرتی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا وکلا احساس پروگرام کے تحت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، وکیل چیف جسٹس نے کہا کہ احساس پروگرام کی سربراہ تصاویر بناکر چند افراد کی مالی امداد کرکے بری الزمہ ہوجاتی ہیں، احساس پروگرام سے سفید پوش افراد کو بھکاری بنادیا گیا،جو سفید پوش افراد لائنوں میں نہیں  لگ سکتے وہ کہاں جائیں، 15روز گزر گئے پنجاب حکومت وکلاء کے فنڈز کے لیے سمری منظور نہیں کر سکی، کہاں ہے پنجاب حکومت کی گڈ گورننس؟

وزیر اعلی سمری مسترد کرنا چاہیں تو کر دیں، وکلا نہ کاروبار کر سکتے ہیں نہ نوکری کر سکتے ہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔حکومت وکلا کی مدد کرکے کوئی احسان نہیں کرتی، یہاں جب تک آٹے کے تھیلے کے ساتھ تصویر نہ بنے تو غریب آدمی کی مدد نہیں ہوتی، احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو ،چیف جسٹس قاسم خان نے وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری سے کل جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی ۔عدالت نے وکلا کے لیے فنڈز مختص نہ کرنے پر وفاقی وزیر قانون سے بھی کل 23 اپریل کوجواب طلب کرلیا۔

Malik Sultan Awan

Content Writer