سابق آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیوں کیا؟ شہری عدالت پہنچ گیا

سابق آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیوں کیا؟ شہری عدالت پہنچ گیا

( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ میں سابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے تبادلے کے خلاف درخواست، ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست کے ساتھ سابق آئی جی امجد جاوید سلیمی کے تبادلے کا نوٹیفکیشن درخواست کے ساتھ نہ لگانے کا اعتراض عائد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک نے بھی درخواست کے ساتھ نوٹیفکیشن نہ لگانے کا اعتراض برقرار رکھا۔ لاہورہائیکورٹ میں یہ آئینی درخواست شہری رحمان عزیز نے اسامہ خاور ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی۔ درخواست میں وفاقی، صوبائی حکومت اور سابق آئی جی امجد جاوید سیلمی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کہ پولیس آرڈر 2002 کے تحت آئی جی کی پوسٹنگ کا دورانیہ تین سال کا ہے، سابق آئی جی جاوید سلیمی کا چھ ماہ کے بعد تبادلہ کردیا گیا، موجودہ حکومت 8 ماہ کےعرصے میں تین آئی جی پنجاب تبدیل کر چکی ہے۔

قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تحت ٹھوس وجوہات کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت سابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے تبادلے کا اقدام کالعدم قراردے۔