ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واٹس ایپ صارفین ہوجائیں خبردار!

واٹس ایپ صارفین ہوجائیں خبردار!
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: جنوبی افریقہ میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین کو ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

سائبر سکیورٹی ماہر لوکس مولیفے کے مطابق ملک بھر میں ایسے آن لائن فراڈ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جن میں مجرم دوست، رشتہ دار یا ساتھی کا روپ دھار کر لوگوں سے رقم یا حساس معلومات ہتھیانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مولیفے کے مطابق ان ہتھکنڈوں میں سب سے عام اور خطرناک طریقہ سم سوآپ (SIM Swap) ہے، جس میں مجرم فشنگ اٹیک کے ذریعے متاثرہ شخص کا موبائل نمبر اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ ایک بار نمبر ان کے قابو میں آ جائے تو واٹس ایپ، بینک اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل شناختیں ہائی جیک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

فراڈ کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مجرم، متاثرہ شخص کے کسی جاننے والے کا نمبر یا پروفائل کلون کر کے اُس سے رابطہ کرتے ہیں، پھر ہنگامی صورتحال یا فوری ضرورت کا بہانہ بنا کر او ٹی پی (OTP) یا مالی مدد مانگتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی نیا نمبر آپ سے رابطہ کرے، او ٹی پی مانگے یا ویڈیو یا آواز کی کال سے انکار کرے، تو فوراً محتاط ہو جائیں۔

مولیفے نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی شخص کا نمبر سم سوآپ کے ذریعے ہائی جیک ہو جائے تو اسے فوراً اپنے موبائل نیٹ ورک سروس فراہم کنندہ اور بینک سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ایسے فراڈ سے بچاؤ کا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ صارفین ٹو فیکٹر ویری فیکیشن کو فعال کریں، اور کبھی بھی او ٹی پی یا حساس معلومات واٹس ایپ یا کسی میسجنگ پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں، چاہے بھیجنے والا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔