ملک اشرف : گوجرانوالہ میں 50 سالہ خاتون سے زیادتی کی کوشش کا کیس، ہائیکورٹ نے20 سالہ ملزم آفتاب کی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے سماعت کی، جبکہ ملزم کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔اور مؤقف اختیار کیا کہ گوجرانوالہ پولیس نے دانستہ طور پر جھوٹا مقدمہ درج کیا ،تاکہ ملزم کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ دراصل معاملہ ایک گلی کی لڑائی کا تھا، جسے پولیس نے زیادتی کی کوشش کا رنگ دے کر مقدمہ درج کر لیا۔وکیلِ صفائی نے کہا کہ پولیس کی ملی بھگت سے پنجاب میں خواتین سے زیادتی کے قانون کا غلط استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔میاں داؤد نےدلائل میں کہا کہ قانونی اور سائنسی لحاظ سے یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ ایک 20 سالہ نوجوان کسی 50 سالہ خاتون کے گھر میں گھس کر زیادتی کی کوشش کرے گا۔وکیلِ صفائی کے مطابق متاثرہ خاتون نے شریک ملزم کے حق میں پیسے لے کر بیان دیا، اور یہی بیان ملزم کی ضمانت کیلئے کافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے طے شدہ اصول کے مطابق “شک کا فائدہ” ضمانت کے مرحلے پر بھی مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔پراسیکیوشن اورمدعیہ کی جانب سے ملزم کی درخواست ضمانت کی سخت مخالفت کی گئی، تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کر لی۔