ویب ڈیسک: آسمان پر اکثر نظریں دوڑائیں تو وہاں بعض اوقات سفید رنگ کی لکیریں نمایاں ہوتی دِکھتی ہیں، کافی لوگ اس بات سے انجان ہیں کہ عموماً مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جب ایک طیارہ گزرتا ہے تو اُس کے پیچھے یہ لکیریں بنتی جاتی ہیں۔
آسمان پر طیاروں کو یہ سفید لکیریں بناتے ہوئے دیکھنا نارمل ہے اور انہیں کونٹریلز کہا جاتا ہے, جیسا نام سے عندیہ ملتا ہے یہ گیس یا بخارات کا تبدیل ہوکر مائع یا ٹھوس شکل اختیار کرنے کا عمل ہوتا ہے۔
جب طیارے کا ایندھن جلتا ہے تو پانی کے بخارات بنتے ہیں جو اتنی بلندی پر شدید ٹھنڈ کی وجہ سے برفانی قلموں یا کرسٹل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور فضا میں سفید لکیریں بن جاتی ہیں۔
ویسے یہ کونٹریلز انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے مگر ماحولیاتی صحت کے لیے ضرور نقصان دہ ہے،یہ لکیریں زمین کے کرہ ہوائی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق ان لکیروں سے ابر آلود سطح بڑھتی ہے جس سے زمین کے مجموعی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان لکیروں کے بادل سورج کی ریڈی ایشن کو پلٹا دیتے ہیں اور حرارت کو سطح پر چھوڑ دیتے ہیں، جس سے درجہ حرارت بڑھتا ہے۔
آسمان پر ان لکیروں کے دورانیے کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے، جیسے کئی بار وہ فوری طور پر غائب ہو جاتی ہیں جبکہ کئی بار کچھ وقت تک برقرار رہتی ہیں۔