عاشق رسول ﷺ علامہ خادم حسین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

(سٹی42)ختم نبوت کے علمبرداراورتوہین رسالت قانون کے محافظ، تحریک لبیک پاکستان کےسربراہ علامہ خادم حسین رضوی کانماز جنازہ ادا کردیا گیا،نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر ،ہر آنکھ اشکبار تھی۔

کوئی مر کر بھی امر ہو گیا            کوئی زندہ رہے کر بھی ذلیل ہوگیا

تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی  کی نمازجنازہ ادا کردی گئی، علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی ایمبولینس کے ذریعے مینار پاکستان(گریٹر اقبال)پارک پہنچایا گیا، نمازجنازہ کی ادائیگی کے موقع پرعوام کی کثیر تعداد مینارپاکستان موجود تھی،ہزاروں افراد راستوں  اورمینار پاکستان گراؤنڈ کے اطراف میں تمام سڑکوں پر بھی لوگ موجود تھے،لبیک یا رسول اللہ کی صدائیں بھی گونجتی رہیں۔

سربراہ تحریک لبیک کے صاحبزاد ے سعد رضوی نے والد کی نماز جنازہ پڑھائی ۔بعد ازاں علامہ خادم حسین رضو ی کا جسد خاکی سکیم موڑ کے قریب مدرسہ ابوذر غفاری میں پہنچادیا گیا۔گریٹر اقبال پار ک سمیت اطراف کی سڑکوں اور فلائی اوورز پر لاکھوں کا مجمع موجود تھا۔ کارکنوں ، عقیدت مندوں اور عام شہریوں کی ریکارڈ شرکت تھی،نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، کارکن روتے رہےجبکہ وہاں موجود  ہر آنکھ اشکبار  تھی،جنازےمیں شریک ہر شخص کی زبان پر لبیک یارسول اللہ کاورد جاری رہا۔

عام عوام، سیاسی وسماجی شخصیت  اورعاشق رسول ﷺ ملک ممتاز قادری کے والد ملک بشیر قادری اور بیٹا ملک علی ممتاز قادری نےنماز جنازہ میں شرکت کی،ملکی تاریخ میں سب سے بڑا نمازِ جنازہ ممتاز قادری کا تھا اور اب دوسرا بڑا جنازہ مرحوم علامہ خادم حسین رضوی صاحب کا ہوا۔گریٹراقبال پارک مکمل بھرگیا تھا۔

لاکھوں عقیدت مندشریک جبکہ بادشاہی مسجداورشاہی قلعہ کےاطراف بھی عوامی ہجوم موجود تھا،علاوہ ازیں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جسدخاکی کےہمراہ تھی،جسدخاکی پرعقیدت مندوں کی جانب سے پھول کی پتیاں نچھاور کیں۔ بعدازاں مولانا خادم حسین رضوی کا جسد خاکی تدفین کے لئے مدرسہ ابوذر غفاری پہنچا دیا گیا۔ عاشق رسول ﷺ علامہ خادم حسین رضوی کے ایصال ثواب کے لئے قل خوانی کل صبح 9 بجے جامع مسجد داتا دربار میں ہوگی۔

قبل ازیں پھولوں کی پتیاں نچھاور قافلے میں جسد خاکی کے ساتھ پیر سید ظہیر الحسن شاہ موجود شفیق امین،پیرسیدعنایت الحق شاہ، صاحبزادہ سعد رضوی موجود علامہ فاروق الحسن،علامہ رضی حسینی،عبدالغفور تابانی موجود ڈویژن سکیورٹی انچارج ٹی ایل پی محمد وقاص قافلے میں موجود تھے، ضلعی سکیورٹی انچارج ٹی ایل پی حسن بٹ سمیت دیگربھی موجود تھے۔

نمازجنازہ کےموقع پر سکیورٹی کے فل پروف انتظامات کئے گئے، گریٹر اقبال پارک کے پانچوں گیٹ پر بھاری نفری تعینات کی گئی، امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 50 ریزرویں،ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کے علاوہ اینٹی رائٹ فورس اور سٹی ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی تعینات کئے گئے۔شاہدرہ سےایم اوکالج تک میٹروبس سروس بند کردی گئی۔

واضح رہے کہ  خادم حسین رضوی کی اسلام آباد سے واپسی پر طبعیت خراب ہوئی، انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی اور انہیں بخار بھی تھا۔ خادم حسین رضوی کو طبیعت ناساز ہونے پر شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا۔ خادم حسین رضوی ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز نے خادم حسین رضوی کی موت کی تصدیق کی.