میں آفس آیا اپنا سسٹم آن کیا تو سب سے پہلی نظر ایسی خبر پر پڑی جس نے مجھے چونکا دیا ، ساہیوال سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ارشد ملک نے مطالبہ کیا کہ پانچ ہزار کے نوٹ پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تصویر ہونی چاہے کیونکے نواز شریف نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ۔پنجاب اسمبلی کے ہال کے میں کی گئی اس تقریر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے موصوف نے خوشامد کے جھنڈ ےگاڑ دیئے ہوں۔
لیگی ایم پی اے خوشامد کے نشے میں یہ تک بھول گئے کہ پاکستان کوجوہری طاقت بنانے والے اصل ہیرو تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے جہنوں نے پاکستان کو سپر پاور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو "محسنِ پاکستان" اور "ایٹم بم کے خالق" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان میں قومی ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی محنت، لگن اور وطن دوستی کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی خدمات نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا۔جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بننے میں کامیاب ہوا۔
کرنسی پورے ملک اور قوم کی مشترکہ ملکیت اور شناخت ہوتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو اس پر نمایاں کرنے سے کرنسی متنازعہ بن سکتی ہے اور دوسرے سیاسی گروہوں یا عوام کے ایک بڑے حصے میں ناپسندیدگی کا باعث بن سکتی ہے
قومی کرنسی کو کسی بھی سیاسی شخصیت کی تشہیر یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں مستحکم معیشتیں اور جمہوری ادارے اس اصول پر کاربند ہیں کہ کرنسی محض ایک معاشی ٹول ہوتی ہے، اور اس پر سیاسی قائدین کی بجائے قومی ورثے، تاریخی مقامات، یا قومی علامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی ہیں اور کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر قومی وحدت اور ریاستی شناخت کی علامت ہے۔ کسی سیاسی رہنما کی خدمات اپنی جگہ، لیکن قومی کرنسی کو سیاسی شخصیات کی تشہیر کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔ ریاستی اداروں اور قومی علامات کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا ہی جمہوری روایت اور قومی یکجہتی کے لیے بہتر ہے۔
زیادہ تر ترقی یافتہ اور مستحکم جمہوری ممالک امریکہ، برطانیہ، اور یورپی یونین اپنے کرنسی نوٹوں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر چھاپنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی بجائے وہاں قومی تاریخی عمارتوں، جنگلی حیات، یا سائنسدانوں کی تصاویر استعمال کی جاتی ہیں۔کرنسی پر غیر متنازعہ اور قومی علامتوں کا ہونا ملک کے وقار اور استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد سے بالاتر ہے۔
بعض ممالک میں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے کرنسی پر سیاسی شخصیات کی تصاویر چھاپنے پر پابندی عائد ہے۔ تاکہ معاشی اور سیاسی معاملات کو الگ رکھا جا سکے، لیگی ایم پی اے ارشد ملک کے اس وائرل ہونے والے بیان کو اسبملی سے حذف کیا جانا چاہے اور اس متنازع بیان پر قومی جذبات مجروح کرنے پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔