ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کابطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی منسوخی کیخلاف احتجاج کا اعلان 

پنجاب یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کابطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی منسوخی کیخلاف احتجاج کا اعلان 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے غیر تدریسی عملے کو اسسٹنٹ پروفیسر (ایڈہاک) کے طور پر تعینات کرنے کے فیصلے کو واپس لینے پر ملازمین کے اتحاد نے احتجاج کی کال دیدی ہے ،  ملازمین نے اس فیصلے کو میرٹ اور قابلیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کے راستے میں رکاوٹ قرار دے دیا۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے، بالخصوص پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت حاصل کرنے کے بعد ہی یہ اہلیت حاصل کی تھی کہ انہیں تدریسی ذمہ داریاں سونپی جاتیں۔ لیکن اب اچانک اس فیصلے کو "قواعد کے خلاف" قرار دے کر ان کی ترقی کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں ۔
احتجاج کرنے والے عملے کا مزید کہنا ہے کہ اگر ادارے کی پالیسیوں کے تحت قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی اجازت نہ دی گئی تو محنت کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنڈیکیٹ کے 3 جولائی 2025 کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور غیر تدریسی عملے کو ترقی کے مواقع مساوی بنیادوں پر دیے جائیں۔
مظاہرین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو وہ یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے علامتی دھرنا دیں گے ۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال ملازمین کے احتجاج کی کال پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے غیر تدریسی عملے کو اسسٹنٹ پروفیسر (ایڈہاک) کے طور پر تعینات کرنے کے عمل کو قواعد کے خلاف قرار دیتے ہوئے پرانی تعیناتیوں کی توسیع نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔