براڈ پیک سر کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے معذور کوہ پیما واپسی کے دوران  کھائی میں گر کرہلاک

براڈ پیک سر کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے معذور کوہ پیما واپسی کے دوران  کھائی میں گر کرہلاک
براڈ پیک سر کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے معذور کوہ پیما واپسی کے دوران  کھائی میں گر کرہلاک
براڈ پیک سر کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے معذور کوہ پیما واپسی کے دوران  کھائی میں گر کرہلاک
براڈ پیک سر کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے معذور کوہ پیما واپسی کے دوران  کھائی میں گر کرہلاک

ویب ڈیسک : دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے محروم ہونے کے باوجود دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں کو سر کرکے دنیا کے پہلے کوہ پیما بننے کا اعزاز حاصل کرنے کے کچھ دنوں کے بعد جنوبی افریقہ کے کوہ پیما کم ہانگ بن براڈ پیک سے واپسی کے دوران کھائی میں گر کر ہلاک ہوگئے

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آٹھ ہزار 51 میٹر بلند براڈ پیک کی چوٹی سر کرکے واپسی کے دوران کم ہانگ گہری گائی میں گر گئے۔براڈ پیک دنیا کی آٹھ ہزار سے زائد بلندی والے چوٹیوں میں سے 12 ویں نمبر پر ہے۔لپائن کلب آف پاکستان کے کرار حیدری  کاکہنا ہے کہ جب اتوار کو کم ہانگ براڈ پیک کی چوٹی پر پہنچ گئے تو وہ دنیا کے ان چنیدہ کوہ پیماؤں میں شامل ہوگئے جنہوں نے دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کر سر کر رکھا ہے۔حیدری کے مطابق براڈ پیک کی چوٹی سے واپسی کے دوران کم ہانگ چین کی سائیڈ پر کھائی میں گر گئے۔ کم ہانگ کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔دو روز قبل جب کم ہانگ بن نے بروڈ پیک کو فتح کیا تھا تو اس وقت جنوبی کوریا کے صدر مون جا ان نے کم ہانگ بن کو مبارکباد کا پیغام ارسال کرتے ہوئے اپنی پوری قوم کو مبارک باد پیش کی تھی۔ کم ہانگ 1991 میں الاسکا میں ماؤنٹ ڈینالی سر کرتے ہوئے اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے محروم ہوگئے تھے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک سینیئر حکومتی اہلکار صفت خان نے بتایا کہ بہت کم امکان ہے کہ کم ہانگ بن چوٹی سے گرنے کے بعد سخت موسمی حالات میں زندہ رہ سکیں۔کم ہانگ کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن موسم بہتر ہونے پر ہی شروع کیا جائے گا۔