ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محبت سے نفرت کرنیوالا ’’ایکٹیوا کنگ چور‘‘ گرفتار، 200 سے زائد اسکوٹیاں  اڑائیں

محبت سے نفرت کرنیوالا ’’ایکٹیوا کنگ چور‘‘ گرفتار، 200 سے زائد اسکوٹیاں  اڑائیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سیانے لوگ کہتے ہیں کہ محبت اکثر انسان کو بدل دیتی ہے، لیکن بھارت کے شہر احمد آباد  سے ایک ایسامعاملہ سامنے آیا ہے ، جس میں نفرت بھی کسی کو جرم کی راہ پر دھکیل سکتی ہے۔ بھارتی پولیس نے محبت سے نفرت کی طرف گامزن  ایک  200 سے زائد اسکوٹیاں  اڑانے والا’’ایکٹیوا کنگ چور‘‘پکڑ لیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق احمد آباد کی کرائم برانچ نپولیس نے ایک ایسے گاڑی چور کو گرفتار کیا ہے جس نے 200 سے زائد دو پہیوں والی گاڑیاں چوری کیں، مگر اس کا نشانہ صرف ایک ہی دو پہیوں والی اسکوٹی ماڈل ہونڈا ایکٹیوا  ہی تھا۔ گرفتار ملزم کی شناخت 49 سالہ ہتیش جین کے طور پر ہوئی ہے، جو شاہی باغ کے کرن اپارٹمنٹ کا رہنے والا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس کے خلاف گاڑی چوری کے 71 مقدمات درج ہیں اور حالیہ کارروائی میں پولیس نے اس کے قبضے سے 5 چوری شدہ اسکوٹی ہونڈا ایکٹیوا برآمد کی ہیں۔

کرائم برانچ پولیس کی تفتیش نے سب کو بھی حیران کر دیا۔ اسکوٹی چور ہتیش جین نے بتایا کہ اس نے لو میرج کی تھی اور محبت کی نشانی کے طور پر اپنی بیوی کو ایک اسکوٹی ہونڈا ایکٹیوا تحفے میں دی تھی۔ کچھ سال بعد اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کا کسی اور شخص سے ناجائز تعلق ہے اور وہ اسی ایکٹیوا پر اپنے عاشق سے ملنے جاتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھوکے نے جین کو اندر سے توڑ دیا اور اسی لمحے سے اسے ایکٹیوا اسکوٹی سے نفرت ہو گئی۔ اس کے بعد ہر چوری اس کیلئے بدلے کی شکل اختیار کر گئی۔ پولیس نے بتایا کہ ایکٹیوا اسکوٹی چوری کرنے کے بعد وہ اسے فروخت نہیں کرتا تھا بلکہ چلا کر کہیں چھوڑ دیتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہتیش جین کوئی عام چور نہیں ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق وہ چوری شدہ ایکٹیوا اسکوٹی  بیچتا نہیں تھا۔ جب تک پیٹرول ختم نہ ہو جائے، وہ اسے چلاتا رہتا اور پھر کہیں لاوارث چھوڑ دیتا، اس کے بعد دوسری ایکٹیوا چوری کر لیتا تھا۔ چند ماہ قبل ایک دوسری ایجنسی نے اسے پکڑا تھا، اس وقت اس کے پاس سے 45 سے زائد دو پہیوں والی گاڑیاں برآمد ہوئیں، جن میں زیادہ تر ایکٹیوا اسکوٹی تھیں۔ پوچھ گچھ کے دوران جین نے پولیس کوبتایا کہ ’’اس نے مجھے زندگی بھر کے ٹرانس میں چھوڑ دیا، اس لیے میں ایکٹیوا چرا کر انہیں ٹرانس میں چھوڑ دیتا ہوں ‘‘۔پولیس کے مطابق ہتیش جین مالی طور پر خوشحال ہے۔ وہ بیوی سے الگ ہو کر اپنی ماں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ چوری اس کے لیے کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی بدلے کا ایک طریقہ تھی۔ سینکڑوں چوریوں اور درجنوں برآمدگیوں کے بعد پولیس اب اسے ’’ایکٹیوا کنگ چور‘‘ کہہ کر بلا رہی ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ جرم سے زیادہ ذہنی صدمے اور انتقام کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔