(ویب ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران میں حالات بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں، لیکن ایران اور امریکہ کے بیچ دھمکیوں کا تبادلہ ابھی تک جاری ہے۔۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دھمکی پر امریکی میڈیا کو دیئے ایک انٹرویو میں جواب دیتے ہوئے کہا کے کہ انکی واضح ہدایت ہے،اگر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران کا نام ونشان زمین پرنہ ہوگا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارچی کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے ٹرمپ کو رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے باز رہنے کی بات کہی تھی۔انھوں نے دھمکی دی تھی کہ رہبراعلیٰ کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو نہ صرف تن سے جُدا کردیا جائیگا بلکہ پوری دنیا کو آگ میں جھونک دیا جائیگا۔ دونوں جانب سے بیان بازیو ں کے دوران ایران کےقومی سلامتی پارلیمانی کمیشن کا کہنا ہے کہ رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف اعلان جنگ تصور کیا جائیگا۔ایرانی پارلیمانی کمیشن نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کی صورت میں علما اعلان جنگ کا فتویٰ جاری کریں گے۔جس کے بعددنیا کے تمام حصوں میں اسلام کے سپاہیوں کا ردعمل آئے گا۔
قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈین شیپیرو نے کہا تھا صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے رہبر آیت اعلیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ دنوں بھی ایک بیان آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے۔ اسی دوران ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو متنبہ کیا کہ ایران پر کسی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔خیال رہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کا بیڑا ایشیا سے مشرق وسطی میں مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکی لڑاکا طیارے اور دیگر ساز و سامان مشرق وسطیٰ میں حرکت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اس پس منظر میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے کہا کہ جون 2025 کے برعکس کسی تازہ حملے کی صورت میں ایران تحمل کا مظاہر ہ نہیں کرے گا۔انھوں نے کہا کہ مسلح فوج کو ہمارے پاس موجود تمام وسائل کو بروئے کارلاکر دشمن کے حملے کا جواب دینے کا حق ہے۔دا وال اسٹریٹ جنرل میں شائع کالم میں عراقچی نے لکھا ہے کہ ایک حقیقت ہے جسے میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے واضح طور پر بتانے کی ضرورت ہے، بطور سفارت کار میں جنگ سے نفرت کرتا ہوں۔