(ویب ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران اورریاستہائے متحدہ امریکہ کے بیچ کشیدگی کم ہوتی معلوم نہیں ہورہی ہے ۔ دونوں طرف سے بیان بازیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی تناظر میں ایرانی مسلح فوج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے رہبراعلیٰ پر کسی قسم کا کوئی حملہ کیا تو اس کے سنگین نتائج اس بھگتنا ہوں گے، رہبراعلیٰ کی جانب بڑھنے والے ہاتھ کوکاٹ دیں گے اور انکی دنیا پھونک ڈالیں گے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کریک ڈاؤن میں ہوئی ہلاکتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے بیچ کشیدگی انتہا کوپہنچ گئی تھی۔ امریکہ نے مداخلت کرنے کی دھمکی تک دی تھی لیکن خلیجی ممالک کی لابنگ کے بعد امریکہ نے کسی قسم کی کارروائی کرنے کا ارادہ ترک کردیا تھا۔اس دوران، ایران نے اپنے فضائی حدود کوبند بھی کردیاتھا۔اس کے بعد ،فریقین کےلہجوں میں نرمی بھی دیکھی گئی تھی مگرحالیہ دنوں میں ایک بار پھر دونوں ممالک کے لیڈروں کے لہجوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، اس کے علاوہ امریکی فوج کی نقل وحمل کے دوران بیان بازیوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہےکہ امریکا کا بحری بیٹرا یوایس ایس ابراہم لنکن جو حالیہ دنوں کے دوران بحیرہ جنوبی چین میں تھا، وہ آبنائے ملاکا سے گزرا تھا۔آبنائے ملاکہ جنوبی بحیرہ چین اور بحر ہند کو ملانے والی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس بات کا پتہ شِپ ٹریکنگ ڈیٹا سے چلا ہے۔
خبررساں ادارے اےپی کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے ساتھ 3 تباہ کن جہاز مغرب کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جاری ہونے والی امریکی فوج کی تصاویر میں F-15 E اسٹرائیک ایگلز کو مشرق وسطیٰ میں پہنچنے اور خطے میں فورسز کو HIMARS میزائل سسٹم کو منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اشتہار