ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق لیجنڈری اسپنر ثقلین مشتاق نے معروف عالمِ دین مفتی شمائل ندوی اور بھارتی شاعر و دانشور جاوید اختر کے درمیان ہونے والے مباحثے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ثقلین مشتاق نے مفتی شمائل ندوی کی علمی و فکری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ انہوں نے حال ہی میں مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان ہونے والا مباحثہ دیکھا، جس میں مفتی صاحب کا علم، منطق اور دانائی قابلِ تحسین تھی۔
ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ خدا کے وجود کے حوالے سے مفتی شمائل ندوی کی وضاحت نہایت گہری اور فکری طور پر جھنجھوڑ دینے والی تھی، جو ایک شائستہ اور مہذب انداز میں پیش کی گئی۔ انہوں نے اسے ایک بہترین اور مثبت اقدام قرار دیا۔
سابق کرکٹر نے مزید لکھا کہ اگر لوگ زندگی کے اہم اور حساس موضوعات پر اسی طرح پُرسکون ماحول میں مکالمہ کریں تو دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان ایک مباحثہ ہوا تھا، جس کا موضوع "کیا خدا کا وجود ہے؟" تھا۔ یہ مکالمہ سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بنا، جہاں مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔