سٹی 42 : وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے9اضلاع میں دانش اسکول کی تعمیر شروع کردی گئی ہے، بلوچستان میں 100 ارب کا ترقیاتی فنڈ ختم ہوجائے تو مزید 100ارب دینے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ میں شرکت کی۔ بلوچستان نیشنل ورکشاپ میں وزیراعظم سے سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا ۔ وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب بھی کیا ۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچوں کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی اور رواداری سے مزین ہے، بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد آپ اور بلوچ اقوام کی بات سننا ہے، بلوچ عمائدین اور عوام نے دل کی آواز پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، تاریخ کا سبق ہے کہ ہمیں باہمی اعتماد اور مشاورت سے آگے بڑھنا چاہئے۔
وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان بلامبالغہ پاکستان کا سب سے امیرصوبہ ہے، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق ہمیشہ وہاں کے عوام کا ہے، بلوچستان کو درپیش مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، باقی صوبوں کے مقابلے سرکاری اسکیموں میں بلوچستان کا حصہ 10 فیصد زیادہ ہے، مسائل کے حل کیلئے پُرامن مکالمہ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ بنیاد پر تقسیم مسائل کے حل کا طریقہ ہے، ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مسائل کا ڈھنڈورا پیٹ کر بندوق اٹھائی جائے تو قتل و غارت کا بازار گرم ہوجائے گا، مسائل کے حل کیلئے ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، فیلڈ مارشل سے مشاورت کرکے پٹرول کی آمدنی کو کراچی کوئٹہ شاہراہ کیلئے مختص کیا، جائز شکایات ہزار مرتبہ سننے اور ان کا حل نکالنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر خطے کی سب سے شاندار بندرگاہ ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل پر گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، ڈائیلاگ کا مقصد آپ اور بلوچ اقوام کی بات سننا ہے، بلوچستان میں مسائل موجود ہیں، کوئی محب وطن پاکستانی مسائل کی آڑ میں بندوق نہیں اٹھاسکتا، اگر مسائل ہیں تو انہیں باہمی مشاورت سے حل کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر کسی کی جان لینا ٹھیک نہیں، گھس بیٹھیے بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں دہشت گردی کر رہے ہیں، شہدا اپنی جانیں قربان کرکے دوسروں کی زندگیاں بچا رہے ہیں ۔