(ویب ڈیسک)وسطی یورپ کے ملک ہنگری کے نو منتخب وزیر اعظم پیٹر میگیار نے کہا کہ اگر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے مطلوب (وانٹیڈ) کوئی بھی لیڈر ہنگری آتا ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ان پر بھی نافذ ہوگا۔ واضح رہے کہ پیٹر میگیار نے 12 اپریل کو ہوئے انتخاب میں وزیر اعظم وکٹر اوربن کو ہرایا تھا، وہ 9 مئی کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگری کے نو منتخب وزیر اعظم کا یہ سخت موقف ہنگری کے سابق وزیر اعظم اوربن کی پالیسی سے الگ ہے۔ اوربن نے پہلے آئی سی سی کے وارنٹ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور 2025 میں نیتن یاہو کے دورے کے دوران ہنگری کو آئی سی سی سے باہر نکالنے کا عمل بھی شروع کر دیا تھا۔ لیکن یورپ کے حامی رہنما میگیار نے کہا کہ ان کی حکومت اس عمل کو روک سکتی ہے، جس سے ہنگری آئی سی سی کا ممبر بنا رہے گا اور اسکے قوانین پر عمل کرے گا۔ میگیار نے کہا کہ آئی سی سی کے رکن ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مطلوب (وانٹیڈ )شخص کو حراست میں لیں۔
PM-Elect Peter Magyar: Hungary Ready to Arrest Netanyahu if He Visits https://t.co/CYZVfDNNfb #TempoEnglish
— Tempo English (@tempo_english) April 21, 2026
رپورٹس کے مطابق پیٹر میگیار کے اس بیان کے بعد نیتن یاہو کے ہنگری دورے پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہیں 23 اکتوبر کو 1956 کے ہنگری انقلاب کی 70 ویں سالگرہ کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور نیتن یاہو آنے کے لیے راضی بھی ہو گئے تھے۔ لیکن اب گرفتاری کی وارننگ کی وجہ سے ان کا دورہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ اس سے اسرائیل اور ہنگری کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ ہنگری یورپ میں اسرائیل کا قریبی مانا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ وارنٹ غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی اسرائیلی فوجی کارروائی سے منسلک ہے۔ آئی سی سی کا الزام ہے کہ جنگ کے دوران بھوک کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا گیا۔ دونوں لیڈران پر جنگی جرائم کا کیس درج ہے۔ اسرائیل ان الزامات کو غلط قرار دیتا ہے۔دوسری جانب بیلجیم، کینیڈا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک آئی سی سی کے حکم کو ماننے کی بات کر چکے ہیں، جبکہ ارجنٹائن اور پولینڈ جیسے ممالک اسے نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ فرانس اور اٹلی کا کہنا ہے کہ غیر رکن ممالک کے رہنماؤں کو کچھ چھوٹ ملتی ہے، جس کی بنیاد آئی سی سی کی دفعہ 98 ہے۔ یعنی نیتن یاہو کی گرفتاری کا فیصلہ ہر ملک اپنے قانون اور سیاست کے مطابق کریگا۔