حکومت کا عید سے قبل مارکیٹیں کھولنے کیلئے مشروط اجازت پر غور

(قذافی بٹ) عید سے قبل محدود اوقات کار کے لئے مارکیٹیں کھولنے کے لئے حکومت نے مشروط اجازت پر غور شروع کردیا، صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال تاجروں اور سٹیک ہولڈرز سے حتمی مذاکرات کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کی تیاریوں کیلئےمرحلہ وار اجازت دی جاسکتی ہے، عید کی تیاریوں کے حوالے سے گھریلو سطح پر عید کے سامان کی تیاری کی اجازت دی جائے گی، پہلے مرحلے میں چوڑیاں، مہندی، اور بچوں کے گارمنٹس بنانے والی گھریلو صنعتوں کو اجازت دی جاسکتی ہے اور جن اداروں کو اجازت دی جائے گی انہیں سینیٹائز اور ملازمین کی صحت کے حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 رمضان کے بعد خریداری کے مراکز کو بھی اجازت دی جاسکتی ہے، بازاروں میں خریداروں کو مخصوص اوقات میں خریداری کی اجازت ہوگی ، تاجروں کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے ہوں گے۔

دوسری جانب مختلف تاجر تنظیموں کے قائدین سمیت دیگر رہنماؤں کا لاہور چیمبر میں غیر رسمی اجلاس ہوا،جس میں صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز،چیئرمین نعیم میر گروپ وقار احمد میاں،چودھری خادم حسین، چودھری واجد حسین،رضوان اختر شمس نے شرکت کی،  سینئر تاجر قائدین نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں حفاظتی تدابیر کیساتھ مارکیٹس کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ نے لاک ڈاؤن کے دوران دکانوں کی بندش اور متاثرہ تاجروں کو مالی امدادی پیکج نہ دینے کیخلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر کو 50 ہزار روپے جرمانہ کردیا، چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم نے ریمارکس دیئے کہ سستی شہرت کیلئے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے، ان لوگوں کو تب صبرآئیگا جب کوروناسےہلاکتیں ہزاروں تک پہنچ جا ئیں گی۔

 خیال رہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں، صوبائی دارالحکومت لاہور میں کوروناسے متاثرہ مریضوں کی تعداد 629 ہوگئی، پنجاب میں مزید کئی نئے کیس سامنے آنے پر تعداد4 ہزار 195 ہوگئی، لاہور کے مختلف علاقوں کے ایک ہزار 34 گھروں کو مکمل سیل کردیا گیا، کورونا سے اب تک پنجاب میں 45 جبکہ لاہور میں 20 اموات ہوچکی ہیں۔

یاد رہے کہ 24 مارچ سے پنجاب  بھر میں  کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن نافذ ہے، آج لاہور میں لاک ڈاؤن کا 29 واں روز ہے، لوگ گھروں میں محدود ہیں،  تمام  شاپنگ مالز، مارکیٹیں، تعلیمی ادارے، سینما گھر، شادی ہالز،  سیاحتی مقامات اور پارکس بند ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ ،ریلوے کا پہیہ جام ہے،کھیلوں کے میدانوں پر تالے لگے ہیں۔