ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب پولیس میں براہِ راست بھرتیوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

پنجاب پولیس میں براہِ راست بھرتیوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس میں براہِ راست بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سب انسپکٹرز کی بھرتی میں عمر کی رعایت کے لیے دائر 80 سے زائد درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ عمر میں رعایت دینا حکومت کا پالیسی معاملہ ہے اور عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے محمد ارشاد سمیت دیگر 80 درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کے بعد 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کی صورت میں جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بھرتی کے لیے مقررہ عمر کی حد قانونی اور انتظامی اصولوں کے مطابق ہے اور اس میں تبدیلی عدالت کا اختیار نہیں۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے کی، جنہوں نے عدالتی فیصلوں اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں تفصیلی دلائل پیش کیے۔تحریری فیصلے  کے  مطابق  عمر میں رعایت حکومت کا پالیسی معاملہ ہے، اور عدالت صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی بنیادی حق متاثر ہو۔درخواست گزار عدالت کو کوئی معقول وجہ یا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے کہ عدالت اس پالیسی میں مداخلت کرے۔عمر میں رعایت کے رولز آئی جی پنجاب نے حکومت کی منظوری سے بنائے ہیں، جو قانون کے مطابق ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سروس کوٹہ اور فریش بھرتی کے نظام میں فرق واضح ہے، کیونکہ دونوں کے لیے ملازمت کی نوعیت، تجربہ اور فزیکل فٹنس کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔عدالت نے  قرار دیا  کہ فریش بھرتی کے لیے کم عمری اور مکمل جسمانی فٹنس بنیادی عناصر ہیں، جو پولیس فورس کی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
،عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ عام سول سرونٹ قانون کے تحت عمر میں رعایت کا اطلاق پولیس فورس پر نہیں ہوتا۔ماضی میں بھی پولیس بھرتیوں کے دوران سول سرونٹ قانون کے تحت کوئی رعایت نہیں دی گئی۔عدالت نے یہ بھی  قرار دیا کہ درخواست گزار امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے، لہٰذا ان کا مؤقف ناقابلِ قبول ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت کا کام قانون پر عمل درآمد کرانا ہے، نہ کہ حکومتی پالیسیوں میں ترمیم کرنا۔چونکہ درخواست گزار عمر کی حد میں رعایت کے لیے کوئی آئینی یا قانونی بنیاد پیش نہ کر سکے، اس لیے تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے عدالتی نظیر (Judicial Precedent) تصور کیا جائے گا، جو مستقبل میں پولیس بھرتیوں سے متعلق عمر کی رعایت کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

Ansa Awais

Content Writer