ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہیٹ ویو کے دوران بچوں کو سکول جانے کی سزا کیوں ملی، وجہ سامنے آ گئی

ماہرین کہہ رہے ہیں کہ بچے دھوپ اور گرمی سے بچیں لیکن ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کہہ رہا ہے کہ سکول بند نہیں کریں گے، منتظمین کو سکولوں میں داخلوں کا ٹارگٹ پورا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Heatwave, Scorching heat, weather forecast, weather update, Lahore weather forecast, Punjab heatwave
کیپشن: سکولوں میں چھٹیاں ایک ہفتہ پہلے کرنے کا خود اعلان کر کے حکومت نے سکولوں کی چھٹیاں 29 مئی تک نہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا، بظاہر اس کی کوئی وجہ سامنے نہیں تاہم سکولوں کے منتظمین کو نئے داخلوں کا ٹارگٹ 31 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ نئے داخلے اپریل کے آغاز میں ہوا کرتے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت: پنجاب میں گرم ترین مئی کی ہوش رُبا گرمی نے بچوں، بڑوں سب کے چھکے چھڑا دیئے، آج شام ساڑھے سات بجے بھی ٹمپریچر 40 ڈگری سیلسئیس ہے، دوپہر کو گرمی کی شدت ناقابلِ برداشت تھی اور دھوم میں چند منٹ گزارنا بھی محال تھا، ٹمپریچر  43 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، گرمی کی بے تحاشا شدت کے باوجود پنجاب کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بزرجمہر اپنے معمولی ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے کم سِن بچوں کو شدید گرمی میں سکول آنے پر مجبور کر رہے ہیں اور گرمی کی چھٹیاں چند روز پہلے کرنے سے اس لئے انکار کر رہے ہیں کہ انہیں سکولوں میں انرولمنٹ کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔

سخت گرمی کا ہفتہ؛ میٹ ڈیپارٹمنٹ کی تصدیق

موسم کے سرکاری ادارہ پاکستان میٹیریولیوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  ماہرین بتا رہے ہیں کہ کل جمعرات کے روز پنجاب بھر میں نہ صرف سخت گرمی رہے گی بلکہ لو بھی چلے گی۔   ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے اور پنجاب میں   صوبہ کےبیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے  تاہم شدیدگرم موسم کے باعث وسطی/جنوبی پنجاب میں گردآلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

لاہور اور وسطی پنجاب میں قیامت کی گرمی پڑنے کا خدشہ

موسم کے غیر سرکاری مبصرین بتا چکے ہیں یہ یہ سارا ہفتہ پنجاب خصوصاً لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، ساہیوال ، سارے وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب  میں  سخت گرمی پڑے گی۔

لاہور میں بدھ  21 مئی اور جمعرات  22 مئی کو ٹمپریچر  41-42 ڈگری سیلسئیس رہنے کا امکان ہے اور لو چلتی رہنے کا قوی امکان ہے۔ وسطی پنجاب کے دوسرے شہروں مین بھی یہی حال رہے گا اور جنوبی پنجاب کا حال اس سے قدرے برا رہے گا۔ جمعہ کے روز آسمان پر معمولی بادل آنے کا امکان ہے، لاہور میں تھنڈر سٹارم آنے کا امکان دو روز پہلے نمایاں نظر آ رہا تھا، اب وہ قدرے موہوم ہو رہا ہے تاہم ٹمپریچر کسی حد تک گرنے کی امید ہے جو گرنے کے باوجود  41-42  ڈگری اور اس سے اوپر ہی رہے گا۔  

اس شدید میں بچوں کو زبردستی سکول بھیجنا  پنجاب حکومت کے خود اپنے ہی گزشتہ فیصلہ کی نفی ہے، حکومت نے پہلے یہ عندیہ دیا تھا کہ شدید گرمی برقرار رہی تو وہ گرمیوں کی چھٹیاں یکم جون کے معمول سے ایک ہفتہ پہلے  یعنی  22-23 مئی کو ہی کر دے گی۔ آج منگل  20 مئی کو حکومت نے اچانک یہ روح فرسا خبر بچوں کو سنائی کہ گرمیوں کی  چھٹیاں ایک ہفتہ پہلے نہیں ہوں گی بلکہ  29 مئی سے سکول بند ہوں گے، پرانے معمول کے مطابق یہ چھٹیاں  یکم جون کو ہوا کرتی ہیں۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ادارہ  کی  سکولوں کو وارننگ

: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر 20 مئی سے 24 مئی تک کے لیے الرٹ جاری کیا اور خاص طور سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ بچوں اور پبلک کو سخت گرمی سے بچانے کے لئے انتظامات کئے جائیں۔ 

ڈیزاسٹر سے بچنے کے ادارہ نے خاص طور سے کہا کہ دوپہر کے وقت غیر ضروری کام سے گریز کریں۔بچوں، بزرگوں اور کمزور افراد کا خاص خیال رکھا جائے۔غیر ضروری سفر سے پرہیز کیا جائے۔

اس انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے  ایجوکیشن ڈیپارٹمنت نے جو راستہ اختیار کیا وہ سٹوڈنٹس کو ہیٹ سٹروک کے آگے ڈال دینے کے مترادف ہے۔

سخت گرمی میں سکول کھلے رکھنے کی کیا ضرورت

پنجاب کا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نئے تعلیمی سال کے  لئے بچوں کو اپنے سکولوں میں داخلے دینے کا خود مقرر کردہ ہدف مئی کے آخری ہفتے تک حاصل نہین کر سکا۔ اب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ مئی کے آخری ہفتے اپنی فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے سکولوں کے اساتذہ کو مجبور کر رہا ہے کہ داخلوں کا ٹارگٹ مکمل کریں۔  اساتذہ الگ سے پریشان ہیں کہ سرکاری سکولوں مین داخل کرنے کے لئے بچے کہاں سے مانگ  کر لائیں کیونکہ بچوں کے والدین نئے تعلیمی سال کے آغاز میں اپریل کے مہینے کی ابتدا میں اپنے بچوں کو  اپنے پسندیدہ سکولوں میں داخل کروا چکے ہیں۔

نئے داخلوں کا ہدف پورا کرنے میں ناکامی کی سزا بچوں کو ملے گی

کل پیر کے روز سٹی42  نے خبر دی تھی کہ  لاہور کےسکولوں میں نئےبچوں کےداخلوں کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا وہ اب تک پورا نہیں ہوا۔ 
لاہور کے سکولوں میں 6 لاکھ 30بچوں کےداخلوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، سی ای اوایجوکیشن  نذیر حسین کے مطابق داخلوں کا ہدف 31 مئی تک پورا کرنا ہے۔تاحال5لاکھ98ہزاربچوں کاداخلہ  ہوا ہے اور  32 ہزار بچوں کو سرکاری سکولوں میں لانے کا ہدف باقی ہے۔ اب تمام سکولوں کے منتظمین کو سخت ہدایات بھیجی گئی ہیں کہ وہ  مزید32ہزاربچوں کاداخلہ گرمیوں کی چھٹیوں سے  پہلے کریں۔ 

نئے داخلوں کا ہدف مکمل کرنے کے لئے سکول زیادہ سے زیادہ ممکنہ دنوں تک کھلے رکھے جائیں گے اور ٹیچرز کے ساتھ کم سن سٹوڈنتس کو بھی شدید گرمی میں سکولوں کے گرم کلاس رومز میں کئی گھنٹے رہنے کی سزا بھگتنا پرے گی۔

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے  28 فروری کو راولپنڈی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فخر سے بتایا تھا کہ تعلیمی اصلاحات کرنے کے بعد اس تعلیمی سال میں 20 لاکھ بچوں کو انرول کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔  اب کم از کم لاہور کی حد تک یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ہدف مئی کے آخری ہفتہ تک پورا نہیں ہو سکا اور اب مزید داخلے ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا آج کا اعلان

آج ایجوکیشن ڈیپارٹمنت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں گرمی کی چھٹیاں  28 مئی سے ہوں گی۔  28 مئی یومِ تکبیر ہے اور اس روز قومی تعطیل کے سبب سارے ادارے بند رکھنے کا نوٹیفیکیشن پہلے ہو چکا ہے۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں چھٹیاں  عملاً 29 مئی جمعرات سے ہوں گے۔ 

ہیٹ سٹروک، سن سٹروک اور لو لگنے کے حادثات

آئندہ پورا ہفتہ سارے پنجاب میں خصوصاً وسطی اور جنوبی پنجاب میں شدید گرمی رہنے کا قومی امکان ہے۔ اب تک پنجاب میں لو لگنے کا کئی حادثے رپورٹ ہو چکے ہیں۔  آئندہ دنوں میں  بچوں کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ موسم کے ماہرین بتا رہے ہیں کہ آنے والے دن گزرے دنوں کی نسبت کچھ زیادہ گرم ہوں گے۔

میاں چنوں میں رکشہ ڈرائیور ہیٹ سٹروک سے جاں بحق

سٹی42 میں آج ہی شائع ہونے  والی ایک رپورٹ کے مطابق میاں چنوں نشتر روڈ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں لوڈر رکشہ ڈرائیور محمد رمضان جاں بحق جبکہ ایک شخص بے ہوش ہوگیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق محمد رمضان گندم لے کر لوڈر رکشے پر آیا تھا جب شدید گرمی کے باعث ہارٹ اٹیک ہوا جس سے وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔

اسی دوران نشتر روڈ پر ہی ایک اور شخص شدید گرمی کے باعث بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر متاثرہ شخص کو طبی امداد فراہم کی ۔

دو سٹوڈنٹ سیٹ سٹروک سے جاں بحق 

ہیٹ ویو کے باعث  جنوبی پنجاب میں مختلف سکولوں کے 2 بچے مبینہ ہیٹ ویو کے باعث جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات آج منگل کے روز سٹی42 میں رپورٹ ہوئی ہیں۔

رپورٹر سہیل احمد نے بتایا کہ " قہر ڈھانے والی اس گرمی نے دو طالبعلوں کی جان لے لی، فتح پور میں طالب علم فٹبال کھیلتے ہوئے دم توڑ گیا، فقیر والی میں طالبہ  باعث جاں بحق ہوگئی۔

لاہور میں لو لگنے کے واقعات

لاہور سے زاہد چوہدری نے رپورٹ کیا کہ  گرمی کی شدت ، لو لگنے کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔ 

سروسز ہسپتال کے ڈی ایم ایس میڈیکل ایمرجنسی ڈاکٹر محسن اعجاز نے بتایا کہ سر درد ، متلی ، چکر آنا ، بے ہوشی لو لگنے کی علامات ہیں ،
بچے ، بوڑھے اور آؤٹ ڈور میں کام کرنے والے افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر محسن اعجاز نے پبلک کو مشورہ دیا کہ وہ   دن 11 سے شام 4 بجے تک سخت گرمی کے دوران  دھوپ میں باہر کم نکلیں۔  پانی کااستعمال زیادہ کریں تاکہ گرمی کی شدت سے بچ سکیں۔

ریسکیو اہلکاروں کی رائے

ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جبکہ ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دھوپ سے حتی الامکان پرہیز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور  دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔