احمد منصور: مودی حکومت ایک بار پھر آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کو کچلنے کے الزامات کی زد میں آگئی ,معروف گجراتی اخبار "گجرات سماچار" کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا جبکہ ادارے کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اور انکم ٹیکس کے مسلسل چھاپوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے جنگی جنون، انتخابی بیانیے میں جھوٹ اور میڈیا پر کنٹرول کی پالیسیوں پر آواز بلند کرنے پر گجرات سماچار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر بہوبلی بھائی شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شاہ کی گرفتاری کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھ رہے تھے اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
حکومت کا طاقت کا استعمال یا سچائی سے خوف؟ ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی حکومت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو سیاسی ہتھیار بنا کر گجرات سماچار کو خاموش کرانے کی شرمناک کوشش کی ہے۔ گجرات سماچار ٹی وی کے دفتر پر پہلے 36 گھنٹے کا انکم ٹیکس چھاپہ مارا گیا اور اس کے فوراً بعد ED نے کارروائی کی۔
اپوزیشن لیڈران نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو تنقید برداشت نہیں۔صحافیوں کو دھمکانا اور جیل میں ڈالنا معمول بن چکا ہے۔میڈیا کو غلام بنانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ گجرات سماچار نے ہمیشہ بےباک صحافت کی ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت اندرونی خلفشار، معاشی بدحالی اور عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر حملے کر رہی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا اور دیگر صحافتی تنظیموں نے بھی حکومت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای ڈی کا استعمال اب کرپشن کے خلاف نہیں، بلکہ سچ کے خلاف ہو رہا ہے۔