ویب ڈیسک:عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خطرات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے سبب سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمت 180 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی میں لاکھوں بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع جاری رہا تو اپریل کے آخر تک تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اگلے ہفتوں میں آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند رہی، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ اس وقت تک قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اور ماہرین اب سنجیدگی سے اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ خدشات عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے تشویشناک ہیں، کیونکہ ہرمز کی بندش نہ صرف تیل کی فراہمی متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔