ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرکاری نرخ بے اثر، دودھ اور دہی مہنگے داموں فروخت

سرکاری نرخ بے اثر، دودھ اور دہی مہنگے داموں فروخت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عثمان خادم: دودھ اور دہی کی سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد مؤثر انداز میں نہ ہو سکا، جس کے باعث شہری مقررہ قیمتوں کے بجائے زائد نرخ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

سرکاری طور پر دودھ کی قیمت 170 روپےودھ اور دہمقرر کی گئی ہے، تاہم مختلف علاقوں میں دودھ 220 سے 240 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا ہے۔

 اسی طرح دہی کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 240 سے 260 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا، جبکہ قیمتوں میں فرق گھریلو اخراجات پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔

 دوسری جانب متعلقہ اداروں کی جانب سے نرخوں پر عملدرآمد اور نگرانی کے اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ چاول، چینی، گھی، آئل اور سرف جیسی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

 ڈبہ بند دودھ کی قیمت بھی 370 سے 400 روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے غذائی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔