(سٹی 42) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ چیلنجز قوموں کی زندگی میں آتے ہیں، چیلنجز سے گھبرانا نہیں، ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا، جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے، ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی رہے گی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے الحمرا میںسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کس کس ہیرے اور جج کا نام لوں کیونکہ بنچ کے تمام لوگ ہی دیانتداری اور قابلیت کا بہترین نمونہ ہیں اور سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کے بغیر نامکمل ہے، جسٹس اعجاز افضل کے بغیر میرا بنچ نا مکمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ مکمل آزاد ہے، آپ کو اس پر فخرہونا چاہیے، وکالت اور ڈاکٹری کے شعبے ہر حوالے سے قابل ستائش ہیں، بار بنچ کی اور بنچ بار کی طاقت ہے کیونکہ اگر بار اور بنچ میں کوئی مفلوج ہوجائے تو ادارہ مفلوج ہو جاتا ہے، بار اور بنچ جسم کے دو حصے ہیں، یہ تصور نہیں ہونا چاہیے کہ جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے کو کاٹے گا، فتنہ ختم کرنے والے لوگ بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نے جو ججز اور وکیل عوام کی داد رسی نہیں کرسکتے وہ یہ کام چھوڑ دیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کیلئے بیوی بچوں کو خیرباد کہہ دیا۔
مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں