(انور عباس)پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،اس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔اس کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیدیا۔
ترجمان پاکستانی مستقل مشن، نیویارک کے مطابق ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے اقوام متحدہ اسپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کیلئے ناگزیر ذریعہ ہیں، یہ مشنز اس وقت بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں،اس حوالے سے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان گزشتہ 6 دہائیوں سے زائد عرصے سے امن مشنز کے لیے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں,
ترجمان کے مطابق مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، حالیہ برسوں میں بعض مشنز کی منتقلی یا اختتام عمل میں آیا ہے،لیکن بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح کے تنازعات کے باوجود ایک دہائی سے زائد عرصے سے کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا۔ غیر اقوامِ متحدہ اور عارضی نوعیت کے مشنز کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مشنز کی ضرورت برقرار ہے،اصل مسئلہ مطابقت کا نہیں بلکہ عزم اور اجتماعی سیاسی ارادے کا ہے، اقوامِ متحدہ امن مشنز کی قانونی حیثیت عالمگیر شمولیت، باقاعدہ اور قابلِ پیشگوئی مالی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور احتسابی نظام سے حاصل ہوتی ہے، قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
پاکستانی مستقل مندوب، اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جا رہی ہے،پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے مالیاتی ڈھانچے کا سنجیدہ اور منظم جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا،تاکہ فنڈنگ کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ بنایا جا سکے، اگر مالی وعدے کمزور پڑتے رہے اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر مشنز محدود ہوتے رہے تو امن مشنز کے لیے دستے فراہم کرنے والے ممالک کی تیاری بھی متاثر ہو سکتی ہے، ان میں اسٹینڈ بائی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیت اور خصوصی یونٹس شامل ہیں۔
پاکستانی مستقل مندوب نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے، اس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں، شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام، اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔