ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے لیا، اعلی حکام ذاتی حیثیت میں طلب

سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے لیا، اعلی حکام ذاتی حیثیت میں طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امانت گشکوری: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے لیا۔ ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ رپورٹس کے ہمراہ ذاتی حثیت میں طلب کرلیا۔ 

  رپورٹ کے مطابق  سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مندوخیل پر مبنی بنچ نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواست پر معاملےکا  نوٹس لیا۔ سیکرٹری اطلاعات، سیکریٹری وزارت انسانی حقوق کو بھی رپورٹس کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا  ہے جبکہ  صحافتی تنظیموں سی پی این ای، اے پی این ایس، پی بی اے، پی ایف یو جے کو بھی نوٹسز جاری کردئے ۔ سپریم کورٹ نے صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور مقدمات کی پیش رفت رپورٹس بھی طلب کر لیں جبکہ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی فوٹیج اورخرچے کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں ۔سپریم کورٹ نے وزارت اطلاعات سے ایک سال کے اشتہارات اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں یادرہے یہ درخواست پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور دیگر سینئر صحافیوں نے دائر کی۔ سپریم کورٹ نے تمام تحریری جوابات 26 اگست تک جمع کرانے کی ہدایت کی ہے جبکہ کہا ہے کہ کیس کو اسی بنچ کے سامنے 26 اگست کو مقرر کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے تحریری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں نوٹس لیا۔صحافیوں کو ہراساں کرنا اور آزادی اظہار رائے کا بنیادی حق تلف کرنا عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی جبکہکیس کی سماعت 26 اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔