(ملک اشرف) چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کا منشیات کےملزم کی درخواست ضمانت پرآئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی کارکردگی پراظہار برہمی،کہتےہیں کہ ناقص تفتیش کےباعث ملزمان عدالتوں میں سزا سےبچ جاتے ہیں،چیف جسٹس نےکہا کہ آئی جی اہلیت بارےعدالتی حکم متعلقہ محکموں کوبھجوایا جائے.
چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نےمنشیات کےملزم فیاض عرف بھولی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،عدالتی حکم پرآئی جی پنجاب شعیب دستگیر،ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر سمیت دیگرافسرپیش ہوئے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سرفراز احمد کھٹانہ نےملزم کا ریکارڈ پیش کیا۔
چیف جسٹس کےاستفسار پرلاء افسر نےکہا کہ آئی جی کو بتایا ہےکہ ملزم کا سابقہ ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کرنے پر انہیں طلب کیا گیا ہے، چیف جسٹس ہائیکورٹ نےریمارکس دیئےکہ آئی جی کو کسی ایک انفرادی مقدمےکےلیےنہیں بلایا،چیف جسٹس نےآئی جی پنجاب سےاستفسار کیا کہ تفتیشی نظام کو چیک کرنےکےلیےکیا اقدامات کررکھےہیں؟؟
آئی جی نےجواب دیا کہ آر پی او سمیت دیگرافسران کو مراسلہ جاری کررکھا ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ کےبارباراستفسارکے باوجود آئی جی پنجاب تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
چیف جسٹس نےکہا کہ پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزمان عدالتوں سے ضمانتیں کرالیتےہیں، آئی جی بولےکہ جتنا انسانی طور پر ممکن ہےسسٹم کی بہتری کےلیےاقدامات کر رہے ہیں، چیف جسٹس نےجواب پراظہارِ برہمی کرتے ہوئےکہا آئی جی کا یہ بیان نوٹ کرلیا جائے۔
چیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ کیاجو قانون میں لکھا ہےاس پرعملدرآمد ممکن نہیں؟؟؟عدالتی استفسار پرآئی جی خاموش ہوگئے، چیف جسٹس نےکہا کہ آئی جی کی اہلیت بارے عدالتی حکم تمام متعلقہ محکموں کو بھجوایا جائےگا۔
ملزم فیاض نےدرخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا کہ اس کےخلاف تھانہ برکی میں تیرہ فروری دوہزار بیس کوچرس برآمدگی کا مقدمہ درج کیا گیا،مقدمہ کا چالان کرکے ٹرائل کورٹ کو بھجوادیا گیا ہے،وہ بےقصور ہے، درخواست ضمانت منظورکی جائے۔