میٹروپولیٹن اور لوکل گورنمنٹ آمنے سامنے

میٹروپولیٹن اور لوکل گورنمنٹ آمنے سامنے

( راؤ دلشاد ) نااہلی یا بدانتظامی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے کروڑوں کی مالیت کے77 واٹر فلٹریشن پلانٹس ناکارہ ہونے لگے، فلٹریشن پلانٹس کی بحالی ومرمت پر میٹروپولیٹن کارپوریشن اور لوکل گورنمنٹ آمنے سامنے آگئے۔

محکمہ لوکل گورنمنٹ نے 2014 میں شہر بھر میں43 کروڑ کی لاگت سے 187 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے۔ واٹرفلٹریشن پلانٹ کی تنصیب پر فی کس 23 لاکھ خرچ کیے گئے، ایک سو دس فلٹریشن پلانٹس کو بحالی و مرمت کے بعد واسا کے حوالے کردیا گیا جبکہ 77 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی ذمہ داری لینے کے معاملے پر محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور آمنے سامنے آگئے۔

لوکل گورنمنٹ نے 77 واٹر فلٹریشن پلانٹس میٹروپولیٹن کارپوریشن کو دینے کے احکامات دیئے تو ایم سی ایل نے فلٹریشن پلانٹ لینے سے صاف انکار کر دیا، یوں سترہ کروڑ اکہتر لاکھ روپے کے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی مشینری کھلے عام پڑی ہے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن حکام کے مطابق فنڈز دیئے گئے نہ فلٹریشن پلانٹس کو چلانے کے لئے تربیت یافتہ عملہ دیا گیا جبکہ ایک پلانٹ پر تین ملازم درکار ہوتے ہیں ایک بھی ورکر رکھنے کی منظوری نہیں دی گئی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ محکمہ بلدیات نے ہیومن ریسورس دینے سے صاف صاف انکار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشتر زون، عزیز بھٹی زون، علامہ اقبال زون اور واہگہ زون کے دیہی علاقوں میں 77 فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں۔

ایکسئین لوکل گورنمنٹ کےمطابق 77 پلانٹس کی تین سالہ مرمت کی زمہ داری کے ایس بی فرم کی ہے۔ معاہدے کے مطابق تین سال مکمل ہو چکے ہیں اب پلانٹس میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور یا واسا کو دیئے جائیں گے۔ واسا نے اپنی حدود میں آنے والے 110 فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بحال سنبھال لی۔ 77 فلٹریشن پلانٹس کا فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا۔

فلٹریشن پلانٹس کو سیلانی ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم سیلانی ٹرسٹ اور کمشنر آفس کے درمیان معاہدے کے تین ماہ بعد بھی 99 فلٹریشن پلانٹس میں صرف دوپلانٹ ہی مرمت ہوسکے۔