ملک اشرف :لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ زبردستی یا دھوکے سے لیے گئے دستخط پر پرونوٹ قانوناً قابلِ قبول نہیں۔
عدالت نے پرونوٹ پر 10 لاکھ روپے کی دائر ریکوری اپیل خارج کر دی۔ جسٹس محمد ساجد محمود نے مسمات نور بی بی کی فرسٹ ریگولر اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے مدعیان کی اپیل خارج کر دی۔
فیصلے کے مطابق مدعا علیہان کے موقف کے مطابق مقدمہ بازی کے دوران خالی کاغذ پر انگوٹھا لگوایا گیا، جسے بعد میں جعلی پرامسری نوٹ میں تبدیل کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ تنازع کی صورت میں صرف انگوٹھے کا نشان ہونا ہی قرض کا ثبوت نہیں بنتا، قانونی مفروضہ تب ہی حاصل ہوگا جب دستاویز کا رضامندانہ اجرا ثابت ہو۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نوٹری پبلک کے رجسٹر میں انٹری نہ ہونا دستاویز کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے، جبکہ فریقین کے درمیان پہلے سے قائم مقدمہ بازی اور مخالفت ریکارڈ سے ثابت ہے۔
عدالت کے مطابق 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم کی ادائیگی کا سچا اور معقول ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، جبکہ اپیل کنندگان دعویٰ کی بنیاد اور بنیادی حقائق کو قانونی معیار پر ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محض کارروائی کے اندراج یا نوٹری کی تصدیق سے مشکوک لین دین جائز نہیں ہو جاتا، ٹرائل کورٹ نے تمام شواہد اور حقائق کا درست قانونی جائزہ لے کر فیصلہ دیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے اپیل کنندگان کو ریلیف دینے کی استدعا مسترد کر دی۔