ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قتل کیس میں سزائے موت پانے والا مجرم بری ،فیصلہ کالعدم قرار

قتل کیس میں سزائے موت پانے والا مجرم بری ،فیصلہ کالعدم قرار
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے بھابھی کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم غلام عباس کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث ملزم کو سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
 جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ قتل کا مقدمہ 23 جنوری 2021 کو تھانہ مٹھا ٹوانہ، ضلع خوشاب میں درج ہوا۔ملزم غلام عباس پر الزام تھا کہ اس نے کلہاڑیوں کے وار کرکے اپنی بھابھی زرینہ بی بی کو قتل کیا۔ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ،استغاثہ کے چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔واقعے کے وقت گواہ موقع پر نہیں تھے، ان کے بیانات میں تضاد ہے۔ ٹرائل کورٹ نے ٹھوس اور مستند شواہد نہ ہونے کے باوجود ملزم کو سزائے موت سنائی ،سرکاری وکیل نے مجرم کی سزا کے خلاف دائر اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور میڈیکل شواہد ملزم کے قصور وار ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ملزم نے قتل کا ارتکاب سنگین نوعیت کے حملے کے ذریعے کیا، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔تاہم مدعی اور سرکاری وکیل دونوں عدالت کو قائل نہ کر سکے ،عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ چشم دید گواہوں کی موجودگی کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ملزم کے خلاف شواہد شک و شبہ سے بالا تر معیار پر پورے نہیں اترتے۔ایسے حالات میں سزائے موت برقرار رکھنا ممکن نہیں۔

Ansa Awais

Content Writer