نجی کالج میں داخلوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف، ایچ ای سی ان ایکشن

نجی کالج میں داخلوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف، ایچ ای سی ان ایکشن

اکمل سومرو: ضوابط کی خلاف ورزیاں، نیشنل کالج آف بزنس ایڈ منسٹریشن اینڈ اکنامکس میں داخلوں پر پابندی عائد، ایچ ای سی نے این سی بی اے ای سے ملحقہ سات کالجوں میں بھی داخلے بند کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق این سی بی اے ای میں داخلوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی انسپکشن ٹیم کی جانب سے کالج کے لاہور کیمپس اور ملحقہ دیگر سات کالجوں کا دورہ کرکے انتطامات اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلہ میں لکھا گیا ہے کہ این سی بی اے ای کو انڈر گریجویٹ میں داخلوں کی اجازت تھی جب کہ غیر قانونی طور پر کالج میں پوسٹ گریجویٹ میں داخلے ہوتے رہے، اب ایچ ای سی منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ کی تمام ڈگریوں کی تصدیق بھی نہیں کرے گی۔

ایچ ای سی کے مطابق این سی بی اے ای لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، گجرات، سرگودھا، میانوالی اور لیہ میں داخلوں پر پابندی عائد  کر دی گئی ہے۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ ملحقہ کالجوں میں مستقل اساتذہ ہی نہیں ہیں جب کہ کلاسز پڑھانے کے لیے نان کوالیفائیڈ وزیٹنگ اساتذہ سے گزارہ کیا جارہا ہے، این سی بی اے ای میں داخلہ دینے کی کوئی پالیسی ہی موجود نہیں ہے۔

ایچ ای سی نے کہا ہے کہ بچوں سے محض بھاری فیسیں وصول کرنے کے لیے داخلہ دیا جاتا ہے۔ این سی بی اے ای میں اکیڈمک، فنانشل اور ایڈمنسریٹو بدعنوانیاں ہیں، ایچ ای سی نے داخلے بند کرکے 8 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مراسلے میں سائنسی مضامین کی ڈگریوں کے لیے لیب ہی نہیں بنائی گئی ہیں، طلباء این سی بی اے ای میں داخلہ لینے سے گریز کریں۔