ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے،ٹرمپ کی ایک اور بڑھک

ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے،ٹرمپ کی ایک اور بڑھک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایرانی قیادت ڈیل کرنے کے لیے منتیں کر رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو  انکشاف کیا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے سے محض ایک گھنٹہ دوری پر تھے جب انہوں نے یہ حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت ڈیل کرنے کے لیے منتیں کر رہی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو آنے والے دنوں میں امریکہ کی جانب سے نیا حملہ کر دیا جائے گا۔
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وقت کی حساسیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا  کہ دیکھیں، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ دو یا تین دن، شاید جمعہ، ہفتہ، اتوار یا پھر کچھ ایسا، شاید اگلے ہفتے کے آغاز میں۔۔۔ ایک محدود وقت کے لیے، کیونکہ ہم انہیں نیا جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔
واضح رہےکہ اس سے قبل امریکی صدر یہ بتا چکے ہیں کہ انہوں نے ایران پر منگل کو کیا جانے والا فوجی حملہ مؤخر کر دیا ہے جبکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔پیر کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر کے مطابق حملے میں تاخیر خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر کی گئی ہے تاکہ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے لیے وقت دیا جا سکے۔
امریکی صدر  ڈونلد ٹرمپ نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا جب وہ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے، ورنہ دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔اگرچہ صدر نے مجوزہ حملے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پایا تو ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے کے لیے لمحوں کے نوٹس پر تیار رہا جائے۔