معاشروں کی تعمیر صرف بڑی عمارتوں، ترقیاتی منصوبوں یا سیاسی نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ اصل قومیں اُن اساتذہ کے ہاتھوں تشکیل پاتی ہیں جو نسلوں کی فکری، اخلاقی اور علمی تربیت کرتے ہیں۔بالخصوص قانون کی تعلیم سے وابستہ شخصیات کسی بھی ریاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں کیونکہ انہی کے شاگرد آگے چل کر جج، وکیل، قانون ساز اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کا حصہ بنتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی سابق ڈین ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی انہی نابغۂ روزگار علمی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری عملی زندگی قانونی تعلیم، طلبہ کی تربیت اور علمی وقار کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔
ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی کی ریٹائرمنٹ محض ایک سرکاری مدت ملازمت کے اختتام کا نام نہیں بلکہ پاکستان میں قانونی تدریس کے ایک روشن اور باوقار عہد کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی علمی خدمات کو جس انداز میں سینئر قانون دانوں، بار رہنماؤں، سرکاری لاء افسران اور اساتذہ نے سراہا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنی شخصیت، کردار اور علم کے ذریعے قانونی برادری میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں پاکستان بار کونسل کے دفتر میں منعقد ہونے والی پروقار الوداعی تقریب دراصل ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی کی خدمات کا اجتماعی اعتراف تھی۔ اس تقریب میں سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک جاوید اعوان، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، رفاقت علی ڈوگر، ممبر پاکستان بار کونسل ثاقب اکرم گوندل ، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اخلاق سلہری ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان، سردار امیر حمزہ ڈوگر ،وقاص عمر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ محسن عباس ،سپیشل پراسیکیوٹر نیب فاطمہ شاہد اور لاہور ہائیکورٹ بار کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے چیئرمین حسیب اللہ خان ، امیدوار سیکرٹری سپریم کورٹ بار ملک عارف اعوان سمیت قانونی دنیا کی متعدد ممتاز شخصیات کی شرکت اس بات کی غماز تھی کہ ڈاکٹر شازیہ قریشی نے صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں چلایا بلکہ انہوں نے ایک پورا علمی ماحول تشکیل دیا۔
ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی کی سب سے نمایاں خوبی یہ رہی کہ انہوں نے قانونی تعلیم کو محض کتابی معلومات تک محدود نہیں رکھا۔ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا کہ ایک اچھا قانون دان صرف قانون کی دفعات یاد کرنے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک باشعور، باکردار اور ذمہ دار شہری بھی ہوتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں تحقیق، مکالمے، تنقیدی سوچ اور عملی تربیت کے رجحانات کو فروغ دیا۔ ان کے دور میں Moot Court Competitions، ریسرچ کلچر اور جدید قانونی مباحث کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی۔
بطور ڈین انہوں نے نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی وقار پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف اساتذہ بلکہ طلبہ بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ہمیشہ اعتماد دیا کہ قانون کی دنیا میں کامیابی صرف ذہانت سے نہیں بلکہ محنت، دیانت اور مستقل مزاجی سے حاصل ہوتی ہے۔
خواتین کی قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے بھی ڈاکٹر شازیہ قریشی کا کردار انتہائی اہم رہا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ خواتین نہ صرف تدریس بلکہ قانونی قیادت کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ وہ سینکڑوں طالبات کے لیے ایک رول ماڈل بنیں جنہوں نے ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر قانون کے شعبے کو اپنایا۔
ڈاکٹر شازیہ قریشی کی اصل کامیابی ان کے وہ ہزاروں شاگرد ہیں جو آج ملک کی اعلیٰ عدالتوں، لاء فرمز، سرکاری اداروں اور تدریسی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک استاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں کہ اس کے شاگرد اس کے علم، تربیت اور اخلاق کا عملی نمونہ بن جائیں۔
آج جب معاشرے میں تعلیمی اقدار تیزی سے بدل رہی ہیں، ایسے وقت میں ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی جیسی شخصیات کی خدمات مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی سے یہ پیغام دیا کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی فکری تعمیر کا عمل ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سرکاری طور پر ریٹائرمنٹ کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، مگر علم بانٹنے والے لوگ کبھی حقیقتاً ریٹائر نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی کی تحریریں، ان کے لیکچرز، ان کے تربیت یافتہ شاگرد اور ان کی قائم کردہ علمی روایات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
قانونی برادری کی جانب سے ان کی خدمات کا اعتراف دراصل علم، کردار اور خلوص کے اس سفر کو سلام پیش کرنے کے مترادف ہے جو انہوں نے کئی دہائیوں تک جاری رکھا۔ ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی پاکستان میں قانونی تعلیم کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر