پرویز الہیٰ نے پہلی بار طارق چیمہ اور سالک حسین سے متعلق خاموشی توڑ دی، بڑے انکشافات

پرویز الہیٰ ، سالک حسین، طارق بشیر چیمہ
کیپشن: Pervaiz Elahi , Saalik Hussain , Tariq Bashir Cheema
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان سے میرا جھگڑا یہی تھا وہ کہتے تھے حمزہ کو اجازت نہ دو ۔میں نے عمران خان کی نہیں سنی اور حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا رہا۔حمزہ نے جو رویہ دکھایا یہ پہلی دفعہ نہیں یہ ایسے ہی  کرتے رہے ہیں۔

پرویز الہی نے نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ  وفاق میں مقابلہ ہوگا، سالک حسین ، طارق بشیر چیمہ کا پتہ ہے کیا کرنا ہے۔اعتماد کے ووٹ سے پہلے ہم سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کو واپس لے آئیں گے۔100 فیصد دونوں واپس آئیں گے اور ان کا دھڑن تختہ کرکے آئیں گے۔

پرویز الہی نے مزید کہا کہ میں نے سالک اور چیمہ صاحب کو ووٹ دینے کی بالکل اجازت نہیں دی۔چیمہ صاحب کو عمران خان پر کوئی غصہ تھا لیکن خلاف ووٹ نہیں دئیے۔ چیمہ صاحب نے زرداری صاحب کو کہا یا میرا ووٹ لے لیں یا سالک حسین کا ۔ چیمہ صاحب نے کہا اگر چودھری صاحب کا ووٹ لینا ہے تو وہاں سے فون کروائیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا چودھری شجاعت صاحب ٹھیک ہیں اور میرے ساتھ ہیں۔ ن لیگ والے اس وقت جلتے توے پر لیٹے ہوئے ہیں۔سالک کو وزارت دی مگر محکمہ نہ دیا تو شجاعت صاحب نے کہا واپس لے لیں۔شجاعت صاحب نے کہا ووٹ تو تم کو دے دیا اب بچوں کو خراب نہ کرو۔اسحاق ڈار نے چودھری شجاعت کو فون پر کہا سالک کو اچھا دفتر بنا کر دوں گا۔ جس پر شجاعت صاحب نے کہا کیا ایون فیلڈ میں ہمیں بلاتے ہو؟تم نے تو واپس ہی نہیں آنا۔

پرویز الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ انہیں کہیں سے معلوم ہوا نوازشریف نے ہمارے بارے میں کہا تھا ان کو وزارت اعلیٰ صرف سنگھائیں گے۔ عمران خان واحد آدمی ہے جس نے کہا آپ وزیراعلیٰ بنیں اور پھر قائم رہا۔ لوگوں کو تکلیف ہوئی لیکن خان صاحب نے کہا میں نے کمٹمنٹ دے دی۔

رہنما ق لیگ نے کہا کہ شریفوں نے تو 2 بار قرآن پر قسم دے کر وزارت اعلیٰ کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔ 85 میں شہبازشریف خود قرآن پاک لیکر آیا پھر 97 میں ان کے والد نے وعدہ کیا۔نوازشریف کو جب پرویز مشرف نے پکڑا تو میاں شریف کا ایک خط مجھے دیا گیا۔مریم ، کلثوم بی بی ، حمزہ شہباز خط لے کر آئے جس میں میاں شریف نے معافی مانگی تھی۔میں نے کہا بک بک بند کرو ورنہ دکھاؤں وہ خط جو آج بھی میرے پاس ہے۔

پرویز الہیٰ نے پیشگوئی کی کہ دیکھ لینا وفاق میں ان کی حکومت ایک ماہ سے زیادہ نہیں رہے گی۔قومی اسمبلی الیکشن ہوں گے۔صوبائی اسمبلیوں پر زرداری اور ہمارا مفاد ایک ہے۔ اللہ نے ان کو بے نقاب کرنا تھا،شریفوں کی اصلیت پھر سامنے آگئی۔جب یہ مشرف سے لڑ کر بھاگے تھے اس وقت بھی ہمارا شریفوں سے اچھا برتاؤ رہا۔

پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ  شریفوں کی وفاق کی گیم ختم ہے، انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی۔ ن لیگ کی ٹکٹ اب فلم کی ٹکٹ بن گئی اور فلم بھی فیل ہے۔ اب صرف عمران خان کی وقت کی اہمیت ہے۔پنجاب میں ان کو سرپرائز دیں گے جیسے پہلے سرپرائز دئیے تھے۔کبھی ایسے نہیں ہوا کہ پولیس اسمبلی میں ایسے گھسے اور کارروائی ہاتھ میں لے۔یہ تو کہیں اسٹینڈ ہی نہیں کرتے کیونکہ حمزہ کا تو حلف بھی نہیں ہوا۔