ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مسلسل تیسری ہفتہ وار کمی، سونے کی چمک ماند پڑنے لگی

مسلسل تیسری ہفتہ وار کمی، سونے کی چمک ماند پڑنے لگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی تجارت ایک بار پھر دباؤ میں آ گئی ہے اور سونے کی قیمتیں مسلسل تیسرے ہفتے تنزلی کے رجحان سے گزر رہی ہیں۔ امریکی مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی مضبوط پوزیشن نے سونے کی مانگ اور قیمتوں دونوں کو متاثر کیا ہے۔

بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد یہ 4,163.93 ڈالر فی اونس تک آ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,181.20 ڈالر فی اونس کی سطح تک گر گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر سونا رواں ہفتے بھی منفی رجحان میں ٹریڈ کرتا رہا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر اپنی ایک سالہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کے باعث دوسری کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے سونا مزید مہنگا محسوس ہو رہا ہے اور خریداری کا رجحان کمزور پڑ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی سیاسی پیش رفت، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اثرات محدود مدت تک رہے، تاہم اب سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ امریکی مالیاتی فیصلوں پر مرکوز ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے 19 پالیسی سازوں میں سے 9 نے رواں سال شرح سود میں مزید اضافے کے امکان کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات مارکیٹ میں 87 فیصد تک جا پہنچے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بلند شرح سود کا ماحول عام طور پر سونے کے لیے سازگار نہیں سمجھا جاتا کیونکہ سونا براہِ راست منافع فراہم نہیں کرتا، اسی لیے سرمایہ کار نسبتاً زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین گروپ نے بھی سونے کی سالانہ پیش گوئی میں نظرثانی کرتے ہوئے دسمبر کے لیے نیا ہدف 4,900 ڈالر فی اونس مقرر کر دیا ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کم ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکی ڈالر مضبوط رہا اور شرح سود میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے ہفتوں میں سونے کی عالمی مارکیٹ مزید اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔