’’ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میرے لیے اعزاز ہے۔
فیلڈ مارشل منیر ایک مضبوط اور ذہین رہنما ہیں۔
پاکستان کے ساتھ عسکری تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔" ڈونلڈ ٹرمپ (امریکی صدر)
یہ محض جملے نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری قیادت پر بین الاقوامی اعتماد کی واضح مہر ہیں۔ جب دنیا کی سپر پاور کا سابق اور ممکنہ آئندہ صدر، وائٹ ہاؤس جیسے مرکزِ اقتدار میں یہ بات کہے تو یہ صرف ایک فرد کی تعریف نہیں، بلکہ ایک قوم، ایک ادارے اور ایک سوچ کا عالمی اعتراف ہوتا ہے۔
آج پاکستان، اپنی سفارتی اور عسکری حکمت عملی کے باعث دنیا کے طاقتور ملکوں کی نگاہوں میں اعتماد اور استحکام کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ایران جس کی سرزمین پر آج "پاکستان زندہ باد" اور "شکریہ پاکستان" کے نعرے گونج رہے ہیں۔
چین، ترکی، سعودی عرب، آذربائیجان — سب پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اور اب امریکہ جہاں پاکستان کی عسکری قیادت کو نہ صرف مدعو کیا گیا بلکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ان کے وژن، تدبر اور قیادت کو سراہا بھی گیا۔
لیکن "سچ" سب کے لیے ہضم نہیں ہوتا...
جب دشمن بھی تعریف پر مجبور ہو جائے،
جب عالمی منظرنامہ پاکستان کے حق میں ہو،
تو بعض لوگوں کو جلن ہونے لگتی ہے۔
ایک مخصوص طبقہ — جو پاکستان کے اندر بیٹھ کر ہمہ وقت منفی بیانیہ گھڑتا ہے — آج بھی اس موقع پر تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔
کوئی ملاقات کے وقت پر سوال اٹھا رہا ہے،کوئی انڈین میڈیا کی کتر بیونت کو حوالہ بنا کر تردیدیں تراش رہا ہے۔
اس طبقے کے لیے صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے:
"جلن کا علاج کسی لکھاری کے پاس نہیں، سکن اسپیشلسٹ کے پاس ہوتا ہے۔"
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت صرف ایک فوجی سربراہ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اعلیٰ پیشہ ورانہ بصیرت، سفارتی فہم، اور قومی وقار کے نمائندہ بن چکے ہیں۔
آج ان کی موجودگی میں پاکستان نہ صرف دفاعی طور پر مستحکم ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی فعال اور معزز نظر آتا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ چند مہینوں میں جس بردباری، تدبر اور تحمل کے ساتھ عالمی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، اس کا اعتراف اب دنیا کھلے الفاظ میں کر رہی ہے۔
آخری بات...کوئی نہیں مان رہا تو صرف:
بھارت، جو ہمیشہ سے پاکستان کی ترقی اور استحکام سے خائف ہے،پاکستان کا وہ مخصوص "اینٹی اسٹیبلشمنٹ" طبقہ، جو ہر کامیابی میں سازش تلاش کرتا ہے،لیکن چاہے وہ مانیں یا نہ مانیں، حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی قیادت آج دنیا کے سامنے نیک نامی اور اعتماد کی علامت بن چکی ہے۔
یہ وقت پاکستان کا ہے... یہ وقت قیادت کا ہے... اور یہ وقت آگے بڑھنے کا ہے۔
اللّٰہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین