ویب ڈیسک:بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے کھرولا گاؤں میں 13 سے 15 سال کی عمر کے تین مسلمان لڑکوں کو سکول جاتے ہوئے کچھ لوگوں نے ایک کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے مارا۔ پولیس کی مداخلت کے باوجود حکام نے پہلے متاثرین کے خلاف ہی کیس درج کر لیا۔ لوگوں کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے بعد مراٹھا ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں 13 سے 15 سال کی عمر کے تین لڑکوں کو ایک کھمبے سے باندھ کر کچھ لوگوں کو انہیں بے رحمی سے پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ویڈیو 10 جولائی کو مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے رینا پور تعلقہ کے کھرولا گاؤں میں حملہ آوروں میں سے ایک نے اپنے موبائل فون سے بنایا تھا۔ حملہ آور اسی گاؤں کے مراٹھا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، جبکہ متاثرین اسکول جانے والے لڑکےتھے، جو مسلم کمیونٹی سے تھے ۔ویڈیو میں معاملہ بالکل صاف ہونے اور حملہ آوروں کے لڑکوں کو چھوڑنے سے پہلے پولیس کی مداخلت کے باوجود حکام نے متاثرین کے خلاف ہی معاملہ درج کر لیا۔ عوامی دباؤ بڑھنے کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے بعد ملزمین مراٹھا لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
متاثرہ لڑکوں میں سے ایک کے والد، جو اس معاملے میں گواہ بھی ہیں، نے اردو ویب سائٹ ’’دی وائر‘‘ کو بتایا کہ جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے اور اس کے دو دوستوں کو باندھ کر پیٹا جا رہا ہے، وہ دیگر دونوں بچوں کے والدین کے ساتھ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے۔انہوں نے کہا، ’ہم نے ان لوگوں کو روکنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ ہم پر ہی بھڑک گئے اور گالیاں دینے لگے۔ ہمیں اتنا ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ ہمارے بچوں کو مار نہ ڈالیں، اور ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ ان سے بہت منت سماجت کرنے کے بعد ہم سات کلومیٹر دور واقع پولیس تھانے پہنچے۔ پولیس فوراً موقع پر پہنچ گئی۔
حملہ آوروں کا الزام تھا کہ لڑکوں نے ان کے کھیتوں سے بجلی کے تار چوری کیے تھے۔پولیس نے تصدیق کی کہ انہیں مارپیٹ کی اطلاع ملی تھی اور وہ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں پولیس اہلکاروں نے بھیڑ کے درمیان سے لڑکوں کو کھینچ کر باہر نکالا۔ لیکن موقع پر پہنچنے اور اپنی آنکھوں سے جرم دیکھنے کے باوجود پولیس نے فوراً ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی۔