ویب ڈیسک: پاکستان شوبز کی معروف سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اپنے فنی سفر کے دوران مرحوم ہدایتکار اقبال کشمیری کے ساتھ گزرا وقت یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں جبکہ جذباتی لمحات بھی شیئر کیے۔
انہوں نے کہا کہ اقبال کشمیری نہ صرف ایک بہترین فلم ساز تھے بلکہ اپنے کام سے بے حد محبت کرنے والی شخصیت بھی تھے، جن کی یاد آج بھی انہیں افسردہ کر دیتی ہے۔
عتیقہ اوڈھو نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے کیریئر اور ماضی کی یادوں پر گفتگو کی۔ پروگرام کے دوران جب ان کی ایک پرانی فلم کا گانا نشر کیا گیا، جس کی ہدایتکاری اقبال کشمیری نے کی تھی، تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
اداکارہ نے کہا کہ ایسے گانے سن کر انہیں فوراً اقبال کشمیری کی یاد آ جاتی ہے اور وہ جذباتی ہو جاتی ہیں۔ ان کے بقول، انہوں نے مرحوم ہدایتکار کے ساتھ "جو ڈر گیا وہ مر گیا" اور "ممی" جیسی فلموں میں کام کیا۔ اگرچہ فلم "ممی" باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی، تاہم اس کی شوٹنگ سے وابستہ یادیں آج بھی ان کے دل کے قریب ہیں۔
عتیقہ اوڈھو نے بتایا کہ شوٹنگ کے دوران وہ اکثر اقبال کشمیری سے ہنسی مذاق کرتی تھیں کیونکہ انہیں رقص کرنا نہیں آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کشمیری انہیں ڈانس سکھانے کے لیے خود اسٹیپس کر کے دکھاتے تھے، جو ان کی فن سے غیرمعمولی وابستگی کا ثبوت تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی اقبال کشمیری کی وفات کا خیال آتا ہے تو دل افسردہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ فلم سازی اور اداکاری سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے۔ عتیقہ اوڈھو کے مطابق ماضی میں فن کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، جبکہ آج کی شوبز انڈسٹری میں مالی مفادات کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔