افشاں رضوان:شہر کی اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ ناموں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان واضح فرق برقرار ہے۔ کئی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں سرکاری فہرست سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، جس کے باعث شہری مہنگے داموں اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور ہیں۔
سرکاری نرخ نامے کے مطابق آلو کی قیمت 32 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں آلو 80 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح پیاز کا سرکاری نرخ 90 روپے فی کلو ہونے کے باوجود بازار میں 150 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ ٹماٹر کی سرکاری قیمت 255 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود دکاندار اسے 350 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں۔
لہسن ہرنائی کی سرکاری قیمت 225 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ادرک کا سرکاری نرخ 350 روپے فی کلو ہے، تاہم بازار میں یہ 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
دیگر سبزیوں میں بھنڈی کی سرکاری قیمت 95 روپے فی کلو جبکہ مارکیٹ میں 120 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ کریلے کا سرکاری نرخ 66 روپے فی کلو ہے، لیکن یہ 100 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ٹینڈے کی سرکاری قیمت 114 روپے ہونے کے باوجود دکاندار اسے 120 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ کچے آم کی سرکاری قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر بازار میں یہ 90 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ سندھڑی آم کا سرکاری نرخ 230 روپے جبکہ مارکیٹ میں 290 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسہری آم کی سرکاری قیمت 257 روپے کے مقابلے میں 290 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح آڑو کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو ہے، تاہم بازار میں 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ سیب کا سرکاری نرخ 355 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ کیلے کی سرکاری قیمت 150 روپے فی درجن ہے، لیکن شہریوں سے 200 روپے فی درجن وصول کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری نرخوں اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمتوں کے درمیان مسلسل فرق نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول میکنزم کو مؤثر بنایا جائے اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مارکیٹوں میں باقاعدہ نگرانی اور کارروائیاں کی جائیں۔