سٹی42: پی ٹی آئی پنجاب کی سابق صدر اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی سابق وزیر یاسمین راشد کے وکیل نے جناح ہاؤس حملہ اور 9 مئی سانحہ کے دوسرے دو مقدموں میں تاخیری حربے بند نہیں کئے جس کے بعد آج انسداد دہشت گردی عدالت نے یاسمین راشد کے اصل وکیل کی جگہ ریاست کا وکیل مقرر کر دیا جو ملزمہ یاسمین راشد کی طرف سے پیش ہو کر مقدمات کی کارروائی کو مکمل کروائے گا۔
جناح ہاؤس حملہ سمیت سانحہ 9مئی کے 3 مقدمات کی آج سماعت ہوئی تو یاسمین راشد کا وکیل ایک بار پھر گواہوں پر جرح کرنے کے لئے عدات نہیں آیا۔اے ٹی سی نے ملزمہ یاسمین راشد کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر گواہوں پر جرح کیلئے سٹیٹ کونسل مقرر کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے آج نو مئی کے تین اہم مقدمات کی سماعت کی تو ریاستی اداروں پر سنگین حملوں کے گواہوں پر ملزموں کے وکیل جرح کیلئے پیش ہوئے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا وکیل جرح کیلئے پیش نہیں ہوا ۔۔ عدالت نے وکیل کے آج بھی پیش نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں نوٹ کیا کہ گواہ شام تک عدالت میں بیٹھ کر وکیل کی جرح کا انتظار کرتے رہے۔
عدالت نے نو مئی تشدد کے تین مقدمات میں ملزمہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کی جگہ سٹیٹ کونسل مقرر کر دیا ۔
عدالت نے وارننگ دی کہ آئندہ پیشی پر اگر کسی بھی ملزم کی جانب سے جرح نہ کی گئی تو سٹیٹ کونسل جرح کریں گے۔ اس سے پہلے آج ملزمان کے وکلاء نے6 گواہوں سے جرح مکمل کی۔ عدالت نے ان تین اہم مقدمات کی مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یاسمین راشد کا وکیل برہان معظم ملک ایڈووکیٹ عدالت میں نہیں آیا تو گواہوں کو صبح سے شام تک مسلسل عدالت میں بیٹھ کر وکیل کا انتظار کرنا پڑا۔ اس پر انسداددہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ اب تین مقدمات میں وکیل معظم ملک جرح نہیں کرے گا بلکہ سرکاری وکیل ہی ملزمہ کی طرف سے جرح کرے گا۔
عدالت نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے کے کیس اور تھانہ سرور روڈ کیس میں سٹیٹ کونسل مقرر کر دیا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ پیشی پرکسی بھی ملزم کی جانب سےجرح نہ کی گئی توسٹیٹ کونسل جرح کرینگے۔
پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس میں ایک اورنیا گواہ ریکارڈ ہوا۔
عدالت نے ٹرائل کی مزید کارروائی 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔
جناح ہاؤس حملہ کیس میں گواہ شہادت قلمبند کرانے کیلئے پیش ہوئے۔
جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں بھی گواہان پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے نو مئی مقدمات کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
جیل میں برضمانت اور زیر حراست ملزمان کی حاضری مکمل کی گئی۔