ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کے زیر حراست ملزمان  پر تشدد یا  ہلاکت کے متعلق بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کے زیر حراست ملزمان  پر تشدد یا  ہلاکت کے متعلق بڑا فیصلہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کے زیر حراست ملزمان  پر تشدد یا  ہلاکت کے متعلق بڑا فیصلہ ،پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور  قتل  کے مقدمے کی تفتیش کون کرے گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے نیا قانونی نکتہ طےکردیا ۔

 جسٹس طارق سلیم شیخ نے کسٹوڈیل ڈیتھ اینڈ ٹارچر ایکٹ پر عمل درآمد کے متعلق  تحریری فیصلہ جاری کیا ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کانسٹیبل محمد آفتاب کی درخواست ضمانت پر 29 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ،  اور اس فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے ،عدالت نے زیر حراست ملزم پر تشدد کے مقدمے میں گرفتار پولیس اہلکار کی ضمانت منظور کرلی ، فیصلہ کے مطابق اگر زیر حراست ملزم پر تشدد یا زیادتی کا مقدمہ پولیس نے درج کیا اور بعد ازاں ایف آئی اے کو ٹرانسفر کر دیا تو پولیس اس ایف ائی ار کو کینسل کر سکتی ہے، پولیس کے تشدد یا ہلاکت کے متعلق کیس ٹرانسفر ہونے پر ایف ائی اے ایک نئی ایف آئی آر درج کرے گی، ،اگر مقدمے کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے تو پولیس کی ایف آئی آر  کینسل نہیں کی جا سکتی، مقدمہ کا ٹرائل شروع پر ایف ائی اے کو نئی  ایف ائی ار درج کرنے کی ضرورت نہیں، حکومت نے کسٹوڈیل اینڈ ڈیتھ ٹارچر ایکٹ کے حوالے سے آگاہی اور سرکاری اہکاروں کی ٹریننگ کے اقدامات نہیں کیے، فیصلہ  میں کہا گیا ہے کہ چیف سکریٹری پنجاب سمیت دیگر کسٹوڈیل اینڈ ڈیتھ ٹارچر ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات کریں، ،پولیس کی جانب سے کسٹوڈیل اینڈ ڈیتھ ٹارچر ایکٹ کے کیس کی ایف آئی آر درج کرنا ٹرائل کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اگر چالان جمع ہونے سے قبل کیس ایف آئی اے کو ٹرانسفر ہوا تو ایف آئی اے تمام مواد حاصل کرنے کے بعد اپنی علیحدہ رپورٹ بنائے گی، فیصلہ کے متن کے مطابق اگر پولیس نے چالان جمع کروا دیا ہے تو ایف آئی اے عدالت میں ایک ضمنی رپورٹ جمع کروائے گا، فیصلہ کے مطابق ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایک کی موجودگی میں زیر حراست ڈیتھ کا مقدمہ اگر پی پی سی کے قوانین کے تحت پولیس درج کرے تو ایف آئی اے کو ٹرانسفر کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ اگر تفتیش ایف آئی اے کو متنقل ہو جاتی ہے تو پھر  پولی نے جو تفتیش کی تھی اسکا کیا ہوگا؟ انتہائی اہم سوالات کے باعث عدالت نے اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل اور پراسکیوٹر جنرل پنجاب  کو طلب کیا ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق، ایسے کیسز میں ایف آئی اے ہیومن رائٹس کمیشن کی نگرانی میں تفتیش کرے گا، فیصلہ کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر انکوائری کے بعد درج کی جانی چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق، قانوناً سرکاری اہکاروں کے خلاف مجرمانہ کارروائی سے قبل متعقلہ اتھارٹی کی اجازت ضروری ہے، ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق، شاید پولیس رولز کے ذریعے پولیس سے ایف آئی اے کو کیس ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے، فیصلہ  میں کہا گیا ہے کہ غلط طریقے سے درج کی گئی ایف آئی آر تفتیش اور ٹرائل کو متاثر نہیں کرتی، وکیل وفاقی حکومت کے مطابق، ایف ائی اے کو سرکاری اہلکاروں کے خلاف تفتیش سے قبل ایک ویریفکیشن کرنی چاہیے۔

Ansa Awais

Content Writer