سٹی 42: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں 27 الیکٹرک بسوں کا افتتاح کرتے ہوئے شہریوں کے لیے کم کرائے اور موبائل چارجنگ کی سہولت کا تحفہ بھی دے دیا، سٹوڈنٹس ، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے مفت سفر اور دیگر افراد کے لیے 20 روپے کا کرائے مقرر کردیا
مریم نواز نے لاہور میں الیکٹرک بسوں کے پہلے روٹ پر الیکٹرک بسیں چلانے کا افتتاح کرنے کی تقریب میں ہمپ گیر خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی ترجیھات اور منصوبوں پر تفصیل سے بات کی۔
مریم نواز نے بتایا، گرین تاؤن سے ریلوے سٹیشن تک 96 سٹاپس والے طویل روٹ پر الیکٹرک بس مین سفر کا کرایہ 20 روپے ہے، بس مین وائی فائی مفت ہے، موبائل فون چارج کرنے کی بہت ضروری ہو چکی سہولت بھی ہے۔ سٹوڈنٹس، معمر شہریوں اور خصوصی افراد کیلئے ان بسوں پر سفر مفت ہوگا،الیکٹرک بس کا کرایہ 20روپے رکھا گیاہے،بسوں میں فری وائی فائی اورموبائل چارجنگ کی سہولت بھی میسر ہوگی، گاڑیوں میں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں تاکہ خواتین کو تحفظ مل سکے ، خصوصی افراد کے لیے خصوصی ریمپ بنایا گیا ہے تاکہ ان کی ویل چیئر بھی آسکے
راستے میں مجھ ےستھرا پنجاب کے صفائی کرتے نظر آئے۔ ستھرا پنجاب کی جو گاڑیاں ہیں وہ سڑکیں صاف کرتی نظر آئیں، تو میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک سال پہلے- صرف ایک سال پہلے جو گرین پنجاب اور کلین پنجاب کا کانسپٹ تھا ،آج اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پنجاب کے اندر وہ ایک حقیقت بن گیا اور یہ صرف گرین بس نہیں ہیں الیکٹرک بس ہی نہیں ہیں۔
بجلی کی بسیں اگست تک سارے پنجاب میں
مریم نواز نے بتایا کہ بجلی سے چلنے والی 27 بسوں کا فلِیٹ آ گیا ہے جس کو آج میں نے افتتاح کیا، کل سے یہ بسیں انشاءاللہ تعالی لاہور کی سڑکوں پہ ہوں گی۔بلکہ 500 الیکٹرک بسوں کا فلیٹ اگست میں انشاءاللہ تعالی پاکستان آجائے گا،اور پنجاب کے تمام شہروں میں انشاءاللہ تعالی وہ بسیں جائیں گی۔
بچوں کی صحت اور بجلی کی بس
مریم نواز نے کہا، اس بس کا میرے نزدیک جو انوائرمنٹ کو فائدہ ہے جو کلینر ایئر ، گرینر پنجاب کو فائدہ ہے۔ مریم نواز نے کہا، جب سسموگ ہوتی ہے بچے بیمار ہوتے ہیں۔ سکول بند ہوتے ہیں، شہری بیمار ہوتے ہیں، ہاسپٹلز میں قطاریں لگ جاتی ہیں۔آنکھوں کی بیماری ہوتی ہے لنگز کی بیماری ہوتی ہے، نزلہ زکام کھانسی بخار ہو جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے مادرانہ شفقت کے ساتھ کہا، جب بچے بیمار پڑ جاتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔
زیرو اومیشن بسیں
مریم نواز نے فضا کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے ضمن میں چین کے کامیاب تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، میں جب چائنہ گئی ہوئی تھی تو میں نے وہاں پر ان سے پوچھا کیونکہ چائنہ نے جو سموگ ہے، اس پہ بہت اچھا کنٹرول کیا ہے۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ جو سموک کے فیکٹرز ہیں، اس میں سب سے بڑا کیا ہے۔ چینی حکام نے بتایا کہ ماحول خراب کرنے والی، انڈسٹری سے فضا میں آنے والی آلودگی سب سے بڑا فیکٹر ہے۔
مریم نواز نے کہا، ہم نے بھی پھر ٹریک ڈاؤن کیا۔ ا نوائرمنٹ کا ایک الگ سبجیکٹ ہے اس پہ میں پھر اپ سے کبھی بات کروں گی، ہم نے انڈسٹری کے اوپر چیک لگایا ہم نے فٹنس سرٹیفکیٹ ان کو ایشو کیے۔ جہاں پہ بھی ایمیشنز ہیں تو ہم اس کو ٹریک کرتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا، اچھی بات ان بسوں کی یہ ہے کہ یہ زیرو ایمیشن بسیں ہیں ،کیونکہ یہ سو فیصد الیکٹرک ہیں، تین گھنٹے تک چارج ہونے کے بعد یہ اگلا پورا دن چل سکتی ہیں۔

کس کس کو فری رائیڈ ملے گی
مریم نواز نے کہاجو کارڈ ہے چیف منسٹر گرین انیشٹو الیکٹرو کارڈ یہ آج میرا کارڈ بنا ہے میں نے یہ کارڈ جو ہے وہ صرف میں نے اس کو سوائپ کیا تو میرا نام نکل آیا ۔ یہ کارڈ سب کو ملے گا اور میں یہاں اناؤنس کرنا چاہتی ہوں کہ سٹوڈنٹس کے لیے، جو سینیئر سیٹیزنز ہیں ان کے لیے، اور جو ڈفرنٹلی ایبل سپیشل افراد ہیں، ان کے لیے یہ بس انشاءاللہ تعالی 100 پرسنٹ فری ہوگی۔
مریم نواز نے کہا، میں اپنے منسٹر ٹرانسپورٹ کو یہ کہنا چاہتی ہوں ابھی آپ کہہ رہے تھے کہ جو یونیفارم میں سٹوڈنٹ آئے گا، اس کو بس پر فری رائیڈ ملے گا تو بہت سارے سٹوڈنٹس ایسے ہیں جو یونیفارم میں نہیں ہوتے کالجز میں یونیورسٹیز میں پڑھتے ہیں جہاں پہ یونیفارم نہیں ہے تو اس کے لیے اپ کو اپنا کوئی الگ سے سسٹم بنانا پڑے گا تاکہ سٹوڈنٹس کو سو فیصو فری رائیڈملے۔

مریم نواز نے کہا انوائرمنٹ کے بعد مجھے جو جس چیز کی سب سے زیادہ خوشی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا کرایہ 35 اور 30 روپے سے کم رکھا ہے۔ ہم نے کرایہ 20 روپے رکھا ہے۔ آج میں بس سٹیشن پہ جب میں اتری، بس سٹینڈ پہ خواتین سے بات کی۔ پھر جب میں بس میں بیٹھی تو وہ جو اور بچیاں بیٹھی تھیں، وہ سٹوڈنٹس تھیں۔ کچھ ورکنگ وومن تھیں، تو میں نے جب ان سے پوچھا کس کس وجہ سے سفر کرتی ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ ہم اپنے سکول، کالج، یونیورسٹی آنے جانے کے لیے یا اپنے ورک پلیس پہ آنے جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہیں۔ میٹرو بس بھی ہے ،اورنج لائن بھی ہے اورسپیڈو بس جو شہباز شریف صاحب نے بنائی تھی اس کو بھی ہم استعمال کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کو انہوں نے کہا ہمیں روزانہ سفر کی کوئی تین ہزار روپیہ مہینہ لاگت آتی ہے۔
مریم نے بتایا کہ ایک بچی نے بتایا کہ ان کے لئے سرف کا تین ہزار روپیہ ماہانہ خرچ بڑا بوجھ ہے۔ اب مجھے بہت خوشی ہے یہ دیکھ کے کہ اب بجلی والی بس کا کرایہ 20 روپیہ ہوگا تو ان لوگوں کا خڑچ کم ہوگا ۔ افورڈ نہ کر سکنے والوں پر بوجھ کم پڑے گا۔ تو یہ جیسے میں نے بتایا، زیرو کابن امشنز کے ساتھ یہ 20 روپے کا کم ترین کرایہ معاشرہ کا دوگنا فائدہ ہو گا۔
مریم کی چلائی بس میں لگژری سہولتیں
مریم نواز نے بتایا کہ وہ جو الیکٹرک بس آج چلا رہی ہیں اس میں کئی اہم سہولیات موجود ہیں۔ اس میں وائی فائی ہے۔ اس میں موبائل چارجنگ کی سہولت ہے ۔اور جو خواتین یہاں پہ بیٹھی ہیں وہ اس بات کو اپریشییٹ کر سکتی ہیں کہ جب پبلک ٹرانسپورٹ میں یا پبلک پلیسز پہ جو خواتین کو ہراس کرنے کے واقعات ہوتے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے میں نے سپیشلی ان بسز کو سی سی ٹی وی مونیٹیٹر کروایا ہے۔
اور تمام بسز کے اندر کیمرے لگے ہوئے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی یا ان کو تکلیف پہنچانے کی جرات بھی نہ کر سکے اور یہ بس ان کے لیے ایک سیف اور سیکیور سواری ہو اور جو اس قسم کے عناصر ہیں، پبلک میں ان کو پتہ چلے کہ وہ مانیٹر ہو رہے ہیں اور اگر خدانخواستہ کسی خاتون کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا تو وہ پکڑا جائے گا۔ تو یہ ہم نے بڑا اس چیز پر بھی زور رکھا ہے
مریم نواز نے بتایا کہ اس بجلی والی بس کی اور ایک بہت اچھی خصوصیت یہ ہے کہ سپیشل پرسنز کے لیے- جو ڈفرنٹلی ایبلڈ لوگ ہیں، ان کے لیے ایک الگ سے اٹومیٹک ریمپ ہیں۔ جس کے اوپر ان کی ویل چیئر آرام سے بس کے اندر داخل ہو جائیں گی۔
مریم نواز نے بتایا، یہ جو 27 بس اس کا فلیٹ ہے یہ گرین ٹاؤن سے ریلوے اسٹیشن تک 98 اس کے سٹاپس بن رہے ہیں اور یہ لاہور کے جو گنجان آباد جو علاقے ہیں، ان کو آپس میں ہم جوڑ رہے ہیں۔
اس روٹ پر بس چلنے سے نہ صرف ٹریفک کے فلو کمیں کمی ہو گی بلکہ لوگوں کو ایک سستی سیف اور ماڈرن جو ٹرانسپورٹ کی فیسلٹی ہ ملے گی۔
مریم نواز نے بتایا جب آپ الیکٹرک ٹرانسپورٹ لے کے آتے ہیں تو آپ کو اس کا چارجنگ انفراسٹرکچر پہلے بنانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ابھی چارجنگ انفراسٹرکچر اس طرح سے نہیں ہے۔ تو ہم پنجاب میں اب بہت بڑے پیمانے پر چارجنگ انفراسٹرکچر الیکٹرک وہیکلز کے لیے بنانے جا رہے ہیں۔ آغاز ہم نے کر دیا ہے۔ ایک جدید ترین ڈپو ہم نے بنا دیا ہے جو صرف سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرتا ہے ۔ لیکن دوسری بجلی سے یہ نہیں چلتا اور سمارٹ ڈپو ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ ہے۔
الیکٹرک بسوں کی رئیل تائم مونیٹرنگ
مریم نے بتایا کہ الیکٹرک بسز کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ ہوگی ۔ گوگل پہ جائیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کی بس کتنی دیر میں بس سٹاپ تک آئے گی۔ آپ کو بالکل سے ایک ایک انفارمیشن مل جائے گی، اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اگلی بس کب آئے گی اور اسی طرح جو اس کے لیے بس سٹیشنز بن رہے ہیں بلکہ سارے بس سٹاپس بن گئے، میں نے اپنے منسٹر ٹرانسپورٹ سے یہ کہا ہے کہ ان بس سٹیشنز کو یا بس سٹاپس کو آپ نے وہاں پیسنجرز ، ٹریولرز کے لیے سہولیات دینی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر موسم ہمارا دس مہینے گرم رہتا ہے تو میں نے وہاں فینز لگوا رہے ہیں، الیکٹرک واٹر کولرز لگوا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو اگر ٹھنڈا پانی پینا ہے تو وہ سہولت ان کو وہاں موجود ہو۔ اور جو ہم نے خواتین کو امپاور کرنے کے لیے فائنینشل اپرچونٹی ان کے لیے کرییٹ کرنے کے لیے ہم نے ہر بس سٹاپ کے اوپر ایک چھوٹا سا کیاسک بنا دیا ہے جہاں ڈ درنکس، سنیکس وغیرہ ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے ایٹیبلز ہوتے ہیں، یہ کیاسک (چھوٹے کھوکھے) ہم خواتین کو دے رہے ہیں۔ جو بس سٹاپ پہ لوگ ویٹ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کچھ کھانا پینا ہو تو وہاں پر یہ بھی ان کے لیے سہولت موجود ہے،

خواتین کے لیے بھی ایک جاب کرییشن کا بہت ایک اچھا طریقہ ہے جیسے میں نے کہا کہ 500 بسیں اگست میں انشاءاللہ تعالی آجائیں گی اور یہ پہلا سیٹ ہے ہمارا۔ فیصل آباد میں ہم الیکٹرک بسز بنا بھی رہے ہیں اور میں بہت ساری چائنیز کمپنیوں کو میں نے دعوت دی ہے، ان کو میں نے کہا ہے کہ وہ آئیں اور مود کریں، اپنا جو اسمبلی یونٹ لگائیں یا پھر ابھی وہ اپنی انویسٹمنٹ کریں۔
میری کوشش یہ ہے میری کوشش یہ ہے کہ میں اپنے جو پنجاب کے لیے سورسز بڑھاؤں تاکہ پنجاب کا بجٹ ایکسپینڈ ہو ۔ جتنا میری پاکٹ ایکسپینڈ ہوگی اتنا عوام کا بھلا اور بھلائی ہوگی۔ اتنی ہی زیادہ بہتری ہم عوام کی زندگیوں میں لا سکتے ہیں، تو بلکہ میرے سے زیادہ باقی صوبے لے جاتے ہیں کوئی کسی بہانے سے لے لیتا ہے کوئی اور مجھے خوشی ہے ضرور لیں۔
مریم وزیراعظم شہباز شریف سے لیتی نہیں ، دیتی ہیں
لیکن میں نے شہباز شریف سے نہ کچھ لیا ہے نہ میں نے ان سے کچھ مانگا ہے بلکہ کئی بار وہ مجھے کہہ دیتے ہیں کہ آپ اس میں کنٹریبیوٹ کر دو ، یہ دے دو ، وہ دے دو ، تو ہم میں کبھی انکار نہیں کرتی۔ تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ جو مسلم لیگ نون کی خدمت کی ایک تاریخ ہے جو ایک برانڈ بنا ہے لوگ اس کو ڈیویلپمنٹ کا برانڈ کہتے ہیں اس کے پیچھے پوری تاریخ ہے اس کے پیچھے 40 سال کی محنت ہے، آپ باقی صوبوں میں چلے جائیں آج میرے پاس صبح بلوچستان کی بچیاں آئی ہوئی ہیں وہ اتنی خوش تھیں لاہورآ کے۔ وہ لاہور آتے ہیں تو ان کو ایک بہت اچھا جو چینج ہے وہ فیل ہوتا ہے تو یہ جب اپ کوئی سوال اپنے دماغ میں پوچھتے ہیں اگر اپ عقل رکھتے ہیں شعور رکھتے ہیں، اور اگر اپ دماغ استعمال کرتے ہیں اگر اپ عقل و فہم اور دانش رکھتے ہیں تو اس کا جواب دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
مریم نواز نے کہا، اگر اپ کو کوئی یہ کہے کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ الیکٹرک بسز کس نے متعارف کی جواب آئے گا نواز شریف اگر کوئی کہے کہ پنجاب کے اندر لیٹسٹ ٹرانسپورٹ سسٹم جس میں سپیڈو بسز شامل ہیں تو کس نے شروعات کی، نواز شریف، شہباز شریف!
اگرآپ سے کوئی یہ پوچھیں کہ پاکستان کی پہلی میٹرو بس کس نے بنائی، نواز شریف، شہباز شریف!
اگر کوئی یہ پوچھے کہ اورنج لائن پاکستان کی سب سے پہلے اور دی اونلی اورنج لائن وہ کس نے بنائی کیا جواب آئے گا نواز شریف! اور صرف لاہور میں میٹرو بس نہیں بنائی ملتان میں میٹرو بس بنائی پنڈی میں میٹرو بس اور اب انشاءاللہ تعالی آپ کو یہ جان کی خوشی ہوگی کہ اگلے سال جو ہے ہم دو میٹرو بسز کا پراجیکٹ کرنے جا رہے ہیں ،اور انشاءاللہ تعالی اگلے مالی سال میں اس کو ہم پورا کریں گے؛ ایک فیصل آباد ہے اور ایک نیکسٹ ائیر سرگودھا!
پہلی اندر گراؤنڈ میٹرو
ہم پاکستان کا پہلا انڈر گراؤنڈ لاہور میں شروع کرنا چاہتے ہیں اس کیبلٹی پہ کام ہو رہا ہے میں اس وقت کمی ہوئی۔ کھیل نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ ایک بہت نہایت مہنگا منصوبہ ہے لیکن میرا دل کرتا ہے کہ میں سال کے اندر لاہور فرسٹ انڈر گراونڈ جو ہے وہ میں بنا چکی ہوں ۔
پہلی ٹرام سروس
مریم نواز نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی جو ٹرام ہے وہ ہم چلانے لگے ہیں۔ انشاءاللہ تعالی ٹھوکر نیاز بیگ سے آگے جو ہربنس پورہ تک پورا جو نہر کے ساتھ دو سڑکیں ہیں اس کے اوپر ہم ٹرام چلانا چاہتے ہیں۔