ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اگر کوئی شوہرجھگڑے میں طلاق کہے اور پھر معافی مانگ لے تو کیا طلاق ہوگی؟

اگر کوئی شوہرجھگڑے میں طلاق کہے اور پھر معافی مانگ لے تو کیا طلاق ہوگی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: لاہور کی فیملی عدالت میں شوہر کی جانب سے بار بار جھگڑے کے دوران طلاق کہنے اور بعد ازاں معافی مانگنے کے معاملے پر اہم کیس سامنے آ گیا ہے، جہاں خاتون نے ذہنی اذیت سے تنگ آ کر خلع کی درخواست دائر کر دی۔

درخواست گزار نسیم بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا شوہر پرویز آئے روز جھگڑوں کے دوران طلاق دے دیتا ہے اور بعد میں معافی مانگ لیتا ہے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل طلاق کے الفاظ سن سن کر تنگ آ چکی ہے، اس لیے عدالت خلع کی ڈگری جاری کرے۔

درخواست گزار کے وکیل شہباز بھٹی ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ شوہر طلاق دے چکا ہے، لہٰذا عدالت اس بنیاد پر طلاق یا خلع کی ڈگری جاری کرے۔ وکیل کے مطابق شوہر کا بار بار طلاق کہنا ازدواجی رشتے کو ناقابلِ برداشت بنا چکا ہے۔

فیملی عدالت نے فریقین کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے شوہر پرویز کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی مزید سماعت کے لیے دوسرے فریق کا مؤقف طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔